محبت

دیکھ تیری دیوانگی میں کیا کر بیٹھے تجھے بھولتے بھولتے خود کو بھول بیٹھے رکھیں گے سنبھال کر تیری یادیں تیری باتیں محبت کرنے چلے تھے ہم صاحب بے وفا کہلائے گۓ ہیں لاکھ کوششوں کے باوجود محبت خاک ہو گئی میری تیرے کہنے پہ رابطہ ختم کیا پھر بھی بے وفا ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ بلا وجہ […]

 مزید پڑھیں

دنیا کے تنہا ترین درخت کا قصہء غم (دشتِ تنہائی)

دنیا کے تنہا ترین درخت کا قصہء غم تحریر: ندیم رزاق کھوہارا اس نے پہلی بار جب کونپلیں کھولیں تو اس کے اردگرد ایک بہار تھی سبزے کی بہار۔۔۔۔ اس کے جیسے کئی ایسے درخت تھے جو جابجا، قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ کچھ اس کی طرح ابھی سر اٹھا رہے تھے کچھ شان سے […]

 مزید پڑھیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں مجھ کو تم سے اعتماد وفا تم کو مجھ سے پر التفات نہیں رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ زندگی موت ہے حیات نہیں یوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکن فرصت غم کو بھی ثبات نہیں کوئی دل […]

 مزید پڑھیں

بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا

بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی […]

 مزید پڑھیں

میں نے تُم کو سُنا

میں نے تُم کو سُنا جیسے پانی مُنکشف ہوتا ہے جیسے زمین، مجذوب سی سرشاری میں لپٹی ہوئی اپنی پیاس کو گلے لگاتی ہے میں نے تُم کو سُنا اور میری سماعت جاگ گئی جیسے بارش کی بوندیں پڑنے کے بعد مٹّی کی سوئی ہوئی خوشبو بیدار ہوتی ہے میں نے تُم کو سُنا جیسے […]

 مزید پڑھیں

اپنی بے صدا خواہشوں کا لشکر لیکر

اپنی بے صدا خواہشوں کا لشکر لیکر کل تم غباروں کو لپیٹتے ہوئے میری آنکھوں میں ہو کر گزری تھی نہ صاحب سلامت کی نہ میری طرف دیکھا میں درد کا میٹھا نغمہ بن کر بہنا چاہتا تھا کہ تمہارے نقش ہائے کفِ پاء سے اٹھتے ہوئے لحنِ سرود نے مجھے اپنی آغوش میں لیا […]

 مزید پڑھیں

ساحلوں پر اداسی رہی

ساحلوں پر اداسی رہی اک ندی پھر سے پیاسی رہی رات نے نیند پہنی مگر خواب کی بے لباسی رہی حسن وہ کھلکھلاتا رہا عشق پر بد حواسی سی رہی آج پھر کچھ نہ کہہ پیے ہم آج پھر بات باسی رہی کم نہ ہو لمس کی آنچ یہ برف بس اب ذرا سی رہی […]

 مزید پڑھیں

حسن کافر تھا ادا قاتل تھی باتیں سحر تھیں

حسن کافر تھا ادا قاتل تھی باتیں سحر تھیں اور تو سب کچھ تھا لیکن رسم دل داری نہ تھی

 مزید پڑھیں

لوگ مانگے کے اجالے سے ہیں ایسے مرعوب

لوگ مانگے کے اجالے سے ہیں ایسے مرعوب روشنی اپنے چراغوں کی بری لگتی ہے

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers