ساحلوں پر اداسی رہی

ساحلوں پر اداسی رہی

اک ندی پھر سے پیاسی رہی

رات نے نیند پہنی مگر

خواب کی بے لباسی رہی

حسن وہ کھلکھلاتا رہا

عشق پر بد حواسی سی رہی

آج پھر کچھ نہ کہہ پیے ہم

آج پھر بات باسی رہی

کم نہ ہو لمس کی آنچ یہ

برف بس اب ذرا سی رہی

جسم مندر ہوا سو ہوا

روح تو دیو داسی رہی

موت پر کس لئے روئیں ہم

زندگی اچھی خاصی رہی

اسی کے متعلق مزید شعر

Copyright 2020 | Anzik Writers