مجھ سے کترا کے نکل جا مگر اے جانِ جہاں

گُل تیرا رنگ چُرا لائے ہیں,.... گُلزاروں میں
جل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاڑوں میں

مجھ سے کترا کے نکل جا مگر اے جانِ جہاں
دِل کی لو دیکھ رہا ہوں تیرے رُخساروں میں

حُسنِ بیگانہ سے،.......احساسِ جمال اچھا ہے
غنچے کِھلتے ہیں تو بِک جاتے ہیں بازاروں میں

ذکر کرتے ہیں تیرا مجھ سے، با عنوانِ جفا
چارہ گر پھول پِرو لائے ہیں،.. تلواروں میں

زخم چُھپ سکتے ہیں لیکن، مجھے فن کی سوگندھ
غم کی دولت بھی ہے شامل،. میرے شاہکاروں میں

مجھ کو نفرت سے نہیں، پیار سے مصلوب کرو
میں بھی شامل ہوں،. محبت کے گنہگاروں میں

رُت بدلتی ہے تو،.. معیار بدل جاتے ہیں
بُلبلیں خار لیے پھرتی ہیں، منقاروں میں

چُن لے بازارِ ہُنر سے،.. کوئی بہروپ ندیم
اب تو فنکار بھی شامل ہیں، اداکاروں میں

اسی کے متعلق مزید شعر

Copyright 2020 | Anzik Writers