قصور میرے عشق کا ہے، تو کیوں کرے ملال خود پر

قصور میرے عشق کا ہے، تو کیوں کرے ملال خود پر

میں چیختی ہوں، چلا رہی ہوں، میری داستاں زوال خود پر

میری گھڑی کی سوئیوں نے بہت سا وقت ہے تجھ پہ وارا

حساب کرتے جو تھک گئی، تو ہوا آشکار احوال خود پر

بہت ہی عجلت دکھائی اس نے، پلک جھپکنے میں ہجر چھایا

ایسا چھایا ہے ہجر کہ، پھر اوڑھ لیا ہے انتقال خود پر

یوں بے رخی جو برت رہے ہو، دھیاں میں اتنی بات رکھنا

چمٹ جائے گر زہر عشق،تو عیاں ہوتا ہے حال خود پر

پھر جس کی خاطر تھے جی رہے، اسی کی خاطر ہے مرنا پڑتا

اسی کے ہجر میں مرتے مرتے، حرام ہوتا ہے وصال خود پر

اسی کے متعلق مزید شعر

Copyright 2020 | Anzik Writers