گلشن میں ہم نے گل و خار دیکھے ہیں۔۔

گلشن میں ہم نے گل و خار دیکھے ہیں۔۔

جاگتی آنکھوں سے سپنے ہزار دیکھے ہیں۔۔

لوگ کہتے ہیں گدھ ہوا میں اڑا کرتے ہیں۔۔

ہم نے زمین پہ چلتے بے شمار دیکھے ہیں۔۔

نشے میں بھی جن کو خدا یاد رہے۔۔

میکدے میں ایسے بھی مے خوار دیکھے ہیں۔۔

حیا کے لبادے اوڑھے ہیں کئی بے حیا چہرے۔۔

صبح و شام اکثر۔۔ ایسے کردار دیکھے ہیں۔۔

ٹھکانہ حشر میں جن کا جنت ہے۔۔

زمانے کے ایسے بھی گنہگار دیکھے ہیں۔۔

کھاتا ہے زمانہ جن کے کردار کی قسمیں۔۔

ایسے بھی ہم نے بد کردار دیکھے ہیں۔۔

لگتا ہے جیلانی۔۔ کسی سے نالاں ہے۔۔

اشعار میں اس کے دل کے غبار دیکھے ہیں۔۔

اسی کے متعلق مزید شعر

Copyright 2020 | Anzik Writers