وہ شخص تھا پشتی بانی والا احسن

وہ شخص تھا پشتی بانی والا احسن

میں جب جب گرا اس نے سنبھالا احسن،

میں سر ورق کھلا تھا زمانے کی آنکھ میں،

میرے عیبوں پر اس نے پردہ ڈالا احسن

میں زخموں کی آغوش میں سو جاتا تھا اکثر،

مجھے پھر پلکوں پے اس نے پالا احسن

وہ رزق تھا روح کا میرے اس قدر،

جیسے غریب کے ہاتھ کا نوالا احسن

وہ جس کی یادیں لیکر بیٹھا ہوں ہمسایہ تھا،

پھر دنیا والوں نے الگ کر ڈالا احسن

اسی کے متعلق مزید شعر

Copyright 2020 | Anzik Writers