اوہ کیسا شعبدہ گر تھا

اوہ کیسا شعبدہ گر تھا

جو مصنوعی ستاروں

اور نقلی سورجوں کی

اک جھلک دکھلا کے

میرے سادہ دل لوگوں

کی آنکھوں کے دیئے

ہونٹوں کے جگنو

لے گیا

اور اب یہ عالم ہے

کہ میرے شہر کا

ہر اک مکاں

اک غار کی مانند

محروم نوا ہے

اور ہنستا بولتا ہر شخص

اک دیوار گریہ ہے

اسی کے متعلق مزید شعر

Copyright 2020 | Anzik Writers