ایک ماں جی اسٹور پر آئیں

ایک ماں جی اسٹور پر آئی, راشن نکلوایا اور اسٹور والے سے کہا یہ بھی لکھ دو کھاتے میں۔۔۔۔

میرا بیٹا ایک ہفتے تک پیسے بھیج دے گا تو آپکی ساری رقم دے جاوں گی۔

اسٹور والے نے معذرت کرتے ہوئے ماں جی سے کہا کہ ہم مزید ادھار نہیں کر سکتے کیونکہ ہم نے بھی آگے کسی کو حساب دینا ہوتا ہے۔

میں یہ منظر اس اسٹور پر کھڑا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔

ماں جی خالی ہاتھ واپس جانے لگیں تو انکے لڑکھڑاتے ہوئے قدم یہ بتا رہے تھے جیسے گھر میں بیٹھے بھوکے بچوں کو تسلی دے آئی ہوں کہ میں ابھی آئی اور تمہیں روٹی بنا دیتی۔۔

اس سے پہلے کہ یہ قیامت خیز منظر مزید اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتا میں نے اسٹور کے ایک ملازم کو اس بوڑھی ماں کے پیچھے بھگایا کہ انہیں بلا لاواور یہ سارا سامان انہیں دے دو اور اگر مزید بھی انہیں کچھ چاہیے تو نکال دو اور سارے پیسے میرے بل میں ڈال دو۔۔

اسٹور ملازم ماں جی کو بلا لایا اور ماں جی سامان لیکر چلی گئیں۔۔ وہ چلی تو گئیں مگر میرے اندر کئی ایسے سوال چھوڑ گئی شاید میں خود انکا جواب نہ دے سکوں۔۔

کیا ہمیں اللہ نے اتنی فرصت یا حیثیت بھی نہیں دی کہ مہینے میں ایک دفعہ اپنے محلے کی کریانے کی دوکان پر جا کر کھاتے والا رجسٹر کھلوائیں اور صرف ایک ایسا بل ادا کر آئیں جو اپنے گھر کے راشن کا بل مالی حالات میں تنگی کے سبب ادا نہ کر پارہے ہوں اور ہم انکو بنا بتائے جمع کرا آئیں۔۔

یقین جانیں ہر ماہ صرف ایک بل بھی اپنے زمہ لے لیں تو رزق میں کشادگی کے لیے ہمیں جھولیاں نہ اٹھانی پڑیں۔۔

اس بوڑھی ماں جیسی کئی مائیں، کئی بزرگ ہر روز محلے میں کریانے کی دوکان والے کے پاس اپنی عزتِ نفس گروی رکھ کر ایک نئی تاریخ کا وعدہ دیکر راشن لے جاتے ہیں اور ایسے کئی سفید پوش گھر میں بیٹھے ہی آسمان کو تکتے رہ جاتے ہیں۔۔

اسی کے متعلق مزید شعر

Copyright 2020 | Anzik Writers