اسلام دین یسر یعنی آسانی کا دین ہے۔ بعض لوگوں کا پیشہ بن چکا ہے کہ جان بوجھ کر اسلام کے نام پر لوگوں پر من مانی سختیاں مسلط کرتے رہتے ہیں۔معلوم نہیں ان کو اس میں کیا فائدہ ہے۔

لہٰذا جس طرح غسل کرنے میں آسانی ہو اور باپردہ جگہ ہو، اسی طریقے سے غسل کریں۔ خواہ بیٹھ کر ہو یا کھڑے ہو کر، کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اصل مقصد طہارت حاصل کرنا ہے جو شرائط ہے غسل کی وہ مد نظر رکھ کے وضو کیجئے اور سب سے شرائط کو غور سے سمجھئے۱ : اسلام قبول کرنے کے بعد غسل کرنا چاہیئے۔ ( صحیح ابن خزیمہ سندہ صحیح)۔ ۲: جب مرد اور عورت کی شرمگائیںمل جائیں تو غسل فرض ہو جاتا ہے۔ ( صحیح مسلم)۔

۳: احتلام ہو تو بھی غسل فرض ہو جاتا ہے۔ ( صحیح بخاری )۔۴: جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری ہے۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔۵: جو شخص میت کو نہلائے اسے غسل کرنا چاہیئے (اگر میت کے جسم سے نکلی غلاظت لگ جائے تو نہیں تو غسل ضروری نہیں بلکہ وضو کافی ہے۔اس پہ ہماری دوسری پوسٹ مکمل وضاحت سے موجود ہے)۔ ( رواہ الترمذی، صححہ ابن حبان و ابن حزم، نیل، صححہ الا لبانی، صححہ الحاکم و الذھبی)۔۶: احرام باندھتے وقت غسل کرنا چاہیئے۔ ( رواہ الحاکم و سندہ صحیح، المستدرک )۔۷: عورت کو اذیت ماہانہ اور نفاس کے بعد غسل کرنا فرض ہے۔ (صحیح بخاری)۔غسل کے متفرق مسائل حالت جنابت میں

رکے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے۔( صحیح مسلم)۔ پانی میں فضول خرچی نہ کرے۔ ( احمد و ابو داود و ابن ماجہ و سندہ صحیح، التعلیقات )۔غسل کے لیے تقریباً سوا صاع یعنی چار کلو گرام پانی کافی ہے۔ ( صحیح بخاری )۔برہنہ ہوکر پانی میں داخل نہ ہو۔ ( ابن خزیمہ، صححہ الحاکم و الذھبی۔ المستدرک)۔نہاتے وقت پردہ کر لے۔ ( رواہ ابو داود و النسائی و احمد و سندہ حسن۔ التعلیقات للالبانی علی المشکوٰ? )۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بیری( کے پتوں) اور پانی سے نہائے۔ (ابن خزیمہ و اسناد صحیح)۔اگر عورت کے بال مضبوطی سے گندے ہوئے ہوں تو انہیں کھولنے کی ضرورت نہیں۔( صحیح مسلم)۔مرد عورت کے اور عورت مرد کے بچے

ہوئے پانی سے غسل نہ کرے۔ ( ابوداود و النسائی سندہ صحٰح ، التعلیقات )۔مرد اپنی بیوی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کر سکتا ہے۔ (صحیح مسلم)۔ فرض غسل کرنے کے بعد دوبارہ وضوءکرنے کی ضرورت نہیں۔ ( رواہ الترمذی و صححہ)۔غسل کرنے کا طریقہ?حمام میں داخل ہونے کی دعائ بسم اللہ اعوذباللہ من الخبث و الخبائث ( رواہ العمری بسند صحیح ، فتح الباری جزء)۔برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے۔ بائیاں ہاتھ ہر گز پانی میں نہ ڈالیں پانی دائیں ہاتھ سے لیں۔ ( صحیح مسلم )۔ پھر بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ اور نجاست کو دھوئے۔ ( صحیح بخاری ) پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر دو تین مرتبہ خوب رگڑے

اور پھر اسے دھو ڈالے (موجودہ دور میں صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھونا کافی ہے، اگر صابن نہیں تو مٹی پہ مار سکتا ہے کیونکہ مٹی پاکی کا زریعہ ہے۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔پھر اسی طرح وضوء کرے جس طرح صلٰو کے لیئے وضوء کیا جاتا ہے۔(اگر سر کا مسح نہ کرے ااور پیر نہ دھوئے تو بھی حرج نہیں۔ غسل کے بعد سائیڈ پہ ہو کر پیر دھو لے۔ اور اگر دوران غسل ہوا خارج نہ ہوئی۔ نہ ہی پیشاب کیا نہ ہی شرم گاہوں کو چھوا تو اس وضو سے نماز پڑھ

سکتا ہے) ( صحیح بخاری )۔ یعنی تین مرتبہ کلی کرے ،تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے، کلی اور ناک مین پانی ایک چلو سے ڈالیں۔ (صحیح بخاری،رواہ ابن خزیمہ سندہ حسن،رواہ احمد و روی النسائی و ابو داود و ابن

حبان و بلوغ الامانی جزئ ۲ فتح الباری جزء ۱ )تین دفعہ چہرہ دھوئے اور تین دفعہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے۔ ( رواہ النسائی اسناد صحیح ، فتح الباری جزئ ۱ )۔پھر انگلیاں پانی سے تر کرے اور سر کے بالوں کی جڑوں میں خلال کرے ، یہاں تک کہ سر کی جلد تر ہو جانے کا یقین ہو جائے پھر سر پر تین مرتبہ پانی بہائے۔ ( صحیح بخاری ) پھر باقی تمام بدن پر پانی بہائے۔ پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف۔ ( صحیح بخاری )

آب حیات اصل میں کہاں ہے

آب حیات اصل میں کہاں ہے، اسے پینے والا قیامت تک زندہ رہتا ہے؟

حضرت خضر علیہ السلام کی کنیت ابو العباس اور نام ”بلیا” اور ان کے والد کا نام ”ملکان” ہے۔ ”بلیا” سریانی زبان کا لفظ ہے۔ عربی زبان میں اس کا ترجمہ ”احمد” ہے۔ ”خضر” ان کا لقب ہے اور اس لفظ کو تین طرح سے پڑھ سکتے ہیں۔ خَضِر، خَضْر، خِضْر۔ ”خضر” کے معنی سبز چیز کے ہیں۔ یہ جہاں بیٹھتے تھے وہاں آپ کی برکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ ان کو ”خضر” کہنے لگے۔ابوالعباس

بلیابن ملکان یہ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے خالہ زاد بھائی بھی تھے۔ حضرت

خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے وزیر اور جنگلوں میں علمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت ذوالقرنین حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر کے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ (صاوی،ج۴،ص۱۲۱۴،پ۱۶، الکہف:۸۳)تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا دور

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے فوری بعد کا ہی ہے۔کیا حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں؟اس میں کچھ علماء نے اختلاف کیا ہے۔ لیکن جمہور علماء (یعنی کثیر علماء) کی یہ ہی رائے ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ بلکہ ان کی ملاقات حضرت موسی علیہ السلام سے بھی ثابت ہے حالانکہ آپ کا دور حضرت موسی علیہ السلام سے کئی سوبرس پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے فوری بعد کا ہے۔تفسیر روح البیان میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں ان کے درمیان اور اور حضر ت موسی علیہ السلام کے درمیان 400 سال کا فرق ہے۔تو اس لحاظ سے حضرت موسی علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام سے تقریبا 600 سال بعد پیدا ہوئے ہوں گے۔امام بدر الدین عینیصاحب شرح بخاری نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ جمہور کا مذ ہب یہ ہے اور صحیح بھی یہ ہے کہ وہ نبی تھے ۔اور زندہ ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: شادی ایسے بھی ہوجاتی تھی۔؟

(عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری مصنف بدرالدین العینی ۔کتاب العلم،باب ما ذکرفی ذہاب موسی، ج۲،ص۸۴،۸۵)خدمت بحر(یعنی سمندر میں لوگوں کی رہنمائی کرنا) ا ِنہیں سے متعلق(یعنی انہیں کے سپرد ) ہے اوراِلیاس علیہ السلام ” بَرّ ”(خشکی) میں ہیں۔(الاصابۃ فی تمیزالصحابۃ،حرف الخاءالمعجمۃ،باب ماوردفی تعمیرہ،ج۲،ص۲۵۲)اسی طرح تفسیر خازن میں ہے کہ ۔اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ

حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی اسی میں منقول ہے کہحضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔اسی طرح تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ صحابی بھی ہیں۔ (صاوی، ج۴،ص۱۲۰۸،پ ۱۵، الکہف:۶۵)اسی

طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ان کی ملاقات ثابت ہے۔اور حضرت خضر علیہ السلام نے ان کو نصیحت بھی فرمائی تھی ۔کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اورباطن مساوی نہ ہو تو منافق ہوتاہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے ۔یہ سن کر عمربن عبدالعزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص39)اور بھی بزرگان دین نے ان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔

آب حیات کیحقیقت:آب حیات کے متعلق بہت اختلاف ہے۔ بعض لوگ اس کو ایک افسانے کے علاوہ کچھ نہیں کہتے ۔ کیونکہ آب حیات کا تذکرہ نہ قرآن میں ہے نہ ہی کسی صیحح حدیث میں۔ہاں کچھ علماء کرام نے اس کا تذکرہ اپنی تفسیر میں حضرت ذوالقرنین کے پہلے سفر کے ذمرے میں کیا ہے۔جیسے کہ تفسیر خزائن العرفان پ۱۶، الکہف: ۸۶تا ۹۸ میں نقل ہے۔حضرت ذوالقرنین نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سےایک شخص چشمہ ء حیات سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہ آئے گی۔ اس لئے حضرت ذوالقرنین نے مغرب کا سفر کیا۔ آپ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے وہ تو آب ِ حیات کے چشمہ پر پہنچ گئے اور اس کا پانی بھی پی لیا مگر حضرت ذوالقرنین کے مقدر میں نہیں تھا، وہ محروم رہ گئے۔ اس سفر میں آپ جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہے وہ سب منزلیں طے کر کے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہانہیں سورج غروب کے وقت ایسا نظر آیا کہ وہ ایک سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے۔ جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ وہاں ان کو ایک ایسی قوم ملی جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھی۔ ا س کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پر نہیں تھا اور دریائی مردہ جانوروں کے سوا ان کی غذا کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا۔ یہ قوم ”ناسک”کہلاتی تھی۔ حضرت ذوالقرنین نے دیکھا کہ ان کےلشکر بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقت ور اور جنگجو ہیں۔ تو حضرت ذوالقرنین نے ان لوگوں کے گرد اپنی فوجوں کا گھیرا ڈال کر ان لوگوں کو بے بس کردیا۔ چنانچہ کچھ تو مشرف بہ ایمان ہو گئے کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھوں مقتول ہو گئے۔اسی طرح تفسیر خازن اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر اور الیاس جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ،اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ اور یہ کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی بھی پیا تھا۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔

روزانہ ایسی پوسٹ اور تحریر کے لیئے ہمارافیس بک پیج انزک رائٹس ضرور وزٹ کریں

جب یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام ہر دور کا دین ہے تو ا س میں چھپے مفہوم کو واضح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ موجودہ دور کے پیچیدہ اور کٹھن معاملات کا حل بھی قرآن کریم ، احادیث مبارکہ اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجممعین کی زندگیوں سے بخوبی ڈھونڈا جا سکتا ہے ۔ چنانچہ دیسی لبرلز اور کالے انگریزوں کے اس رٹے رٹائے اور گھسے پٹے فلسفے کو من و عن نہیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ پتھر کے زمانے میں کہی ہوئی باتیں موجودہ سائنسی دور

میں قابل عمل نہیں ہیں۔ قبول اسلام کا یہ واقعہ حیرت انگیز بھی ہے اور سبق آموز بھی۔ حیرت انگیز اس اعتبار سے کہ نزول قرآن کو کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی آج تک اس نکتے پر کسی کی نظر نہ جاسکی جو ایک امریکی ڈاکٹر کے قبول اسلام کا محرک بنی اور سبق آموز اس پہلو سے ہے کہ کتاب الٰہی میں غوروتدبر اور تحقیق جستجو بندگان خدا کیلئے ہدایت و معرفت کے دروازے کھولنے اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کا آج بھی اتنا ہی مؤثر ذریعہ ہے جتنا وہ نزول وحی کے وقت تھا۔

امریکہ ایک ہسپتال میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا اور اس واقعے کے زیراثر امریکن ڈاکٹر مسلمان ہوگیا۔مذکورہ ہسپتال میں ایک روز ڈلیوری کے دو کیس ایک ساتھ آئے۔ایک عورت سے لڑکا پیدا ہوااور دوسری سے لڑکی… جس رات میں ان دونوں بچوں کی ولادت ہوئی اتفاق سے نگران ڈاکٹر موقع پر موجود نہیں تھا‘ دونوں بچوں کی کلائی میں وہ پٹی بھی نہیں باندھی ہوئی تھی جس پر بچے کی ماں کا نام درج ہوتا ہے تو نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں بچے خلط ملط ہوگئے اور ڈاکٹروں کیلئے یہ شناخت کرنا مشکل ہوگیا کہ کس عورت کا کون سا بچہ ہے

حالانکہ ان میں سے ایک لڑکی تھی اوردوسرا لڑکا… ولادت کی نگرانی کرنیوالے ڈاکٹروں کی ٹیم میں ایک مسلمان مصری ڈاکٹر تھا جس کو اپنے فن میں بڑی مہارتحاصل تھی اور امریکن ڈاکٹروں سے اس کی بڑی اچھی شناسائی تھی اور اپنے سٹاف کے ایک امریکی ڈاکٹر سے گہری دوستیتھی۔ دونوں ڈاکٹرز سخت پریشان تھے کہ اس مشکل کا حل کیسے نکالا جائے؟ امریکی غیرمسلم ڈاکٹر نے مصری ڈاکٹر سے کہا کہ تم تو دعویٰ کرتے ہو کہ قرآن ہر چیز کی تبیین و تشریح کرتا ہے ا ور اس میں ہر طرح کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے تو اب تم ہی بتاؤ کہ ان میں سے کون سا بچہ کس عورت کا ہے؟مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہاں قرآن حکیم بے

شک ہر معاملے میں نص ہے اور میں اسے آپ کو ثابت کرکے دکھاؤں گا۔ مگر مجھے ذرا موقع دیجئے کہ میں خود پہلے اس معاملے میں اطمینان حاصل کرلوں چنانچہ مصری ڈاکٹر نے باقاعدہ اس مقصد کیلئے مصر کا سفر کیا اور جامع ازہر کے بعض شیوخ سے اس مسئلے میں استفسار کیا اور امریکن دوست ڈاکٹر کے ساتھ کی گئی بات چیت کی روداد بھی پیش کی۔ازہری عالم نے جواب دیا کہ مجھے طبی معاملات و مسائل میں ادراکحاصل نہیں ہے۔ البتہ میں قرآن کی ایک آیت پڑھتا ہوں۔ آپ اس پر غورو فکر کریں۔اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ کو اس مسئلے کا حل اس میں مل جائے گا چنانچہ اس عالم نے درج ذیل آیت پڑھ کر سنائی۔

ترجمہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔‘‘ (النساء 11)مصری ڈاکٹر نے اس آیت میں غوروتدبر شروع کردیا اور گہرائی میں جانے پر اسے اس مشکل کا حل بالآخر مل ہی گیا۔ چنانچہ وہ لوٹ کر امریکہ آیا اور اپنے دوست ڈاکٹر کو اعتماد بھرے لہجے میں بتایا کہ قرآن نے ثابت کردیا ہے کہ ان دونوں میں سے کون سابچہ کس ماں کا ہے۔

امریکن ڈاکٹر نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے؟مصری ڈاکٹر نے کہا کہ ہمیں ان دونوں عورتوں کا دودھ ٹیسٹ کرنےکا موقع دیجئے تو اس معمے کا حل معلوم ہوجائے گا۔ چنانچہ تجزئیے و تحقیق کے نتیجے میں معلوم ہوگیا کہ کون سا بچہ کس

عورت کا ہے اور مصری ڈاکٹر نے اپنے غیرمسلم دوست ڈاکٹر کو اس نتیجے سے پورے اعتماد کے ساتھ آگاہ کردیا۔ ڈاکٹر حیران و ششدر تھا کہ آخر یہ کیسے معلوم ہوگیا؟

مصری ڈاکٹر نے بتایا کہ اس تحقیق و تجزئیے کے نتیجے میں جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ تھی کہ لڑکے کی ماں میں لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنا دودھ پایا گیا مزید برآں لڑکے کی ماں کے دودھ میں نمکیات اور وٹامنز (حیاتین) کی مقدار بھی لڑکی کی ماں کے مقابلے میں دوگنی تھی ۔

پھر مصری ڈاکٹر نےامریکن ڈاکٹر کے سامنے قرآن کریم کی وہ متعلقہ آیت تلاوت کی(مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے) جس کے ذریعے اس نے اس مشکل کا حل تلاش کیا اور جس عقدے کو حل کرنے میں دونوں ڈاکٹرنہایت پریشان تھے۔ چنانچہ وہ امریکی ڈاکٹر فوراً ایمان لے آیا۔ چنانچہ ایسا ہی ایک واقعہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ کے زمانے میں بھی پیش آیا تھا چودہ سو سال پہلے اسلام نے اس طرح کے پیچیدہ مسائل کو لمحوں میں کس طرح حل کیا تھا اس مقصد کیلئے وہ واقعہ یہاں پیش کیا جارہا ہے:۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے زمانہ خلافت میں دو عورتوں کی ایک جگہ اور ایک ہی رات میں زچگی ہوئی۔ ایک لڑکا اور دوسری لڑکی تھی‘ لڑکی والی نے اپنی لڑکی کو لڑکے والی کے جھولے میں ڈال کر لڑکے کو لے لیا۔ لڑکے والی نے کہا کہ لڑکا میرا ہے یہ مقدمہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے پاس آیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے حکم دیا دونوں کے دودھ وزن کیے جائیں جس کا دودھ وزنی ہوگا لڑکا اس کا ہوگا۔

 

مالک بن دینار رحمة اللہ علیہ جارہے تھے کہ ایک باندی کو دیکھا‘ بڑی خوبصورت‘ ٹہلتی ہوئی چل رہی ہے‘ چند غلام بھی ساتھ ہیں ان کے دل میں خیال آیا کہ تھوڑا اس کو سبق سکھائیں وہ قریب ہوئے اور کہنے لگے اے باندی! تجھے تیرا مالک بیچتا ہے؟ وہ ہنسی کہ دیکھو مجھے دیکھ کر بوڑھے بھی جون ہوگئے.

کیوں جی! آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ کہنے لگے میں تمہیں خریدنا چاہتا ہوں‘ کہنی لگی: اچھا چلو میرے ساتھ وہ اپنے غلاموں کو کہنے لگی: اس بوڑھے کو ساتھ لے کر چلو ہم جاکر اپنے مالک کو بتائیں گے کہ دیکھو میری شکل دیکھ کر ایسے بوڑھے بھی میرے خریداروں میں شامل ہوجاتے ہیں ‘ذرا مذاق رہے گا.مالک بن دینار رحمة اللہ علیہ بھی پیچھے ساتھ ساتھ چلتے رہے حتیٰ کہ اس کے مالک تک پہنچ گئے.

باندی نے بڑا ہنس ہنس کر ناز نخرے سے اپنے مالک سے کہا کہ آپ بتائو یہ بڈھا مجھے خریدنا چاہتا ہے. اس کا مالک بڑا ہنسا اور ہنستے ہوئے کہنے لگا کیوں بڑے میاں! خریدنا چاہتے ہو؟ مالک بن دینار رحمة اللہ علیہ نے فرمایا جی خریدنا تو چاہتا ہوں

باندی کے مالک نے کہا کہ آپ بتائو کتنے میں خریدنا چاہتے ہیں؟ کہنے لگے میں تو چند خشک کھجوروں کے بدلے خرید لوں گا. باندی کا مالک بڑا حیران ہوا کہ ایسی رشک قمر پری چہرہ باندی اور یہ کہہ رہے کہ میں چند خشک کھجوروں کے بدلے خریدوں گا. انہوں نے کہا کیوں بھئی! اتنی تھوڑی قیمت کیوں؟ کہنے لگے اصل میں اس میں عیب بہت زیادہ ہیں.

وہ بڑا حیران ہوا کہنے لگا بھئی کون سے عیب ہیں. کہنے لگے کہ اس کا جو حسن ہے وہ عارضی ہے‘ تھوڑے دنوں کے بعد یہ بڑھیا ہوجائے گی‘ شکل دیکھنے کو دل نہیں کرے گا اور دوسری بات یہ کہ چند دن نہ نہائے تو بدن سے پسینے کی بو آنے لگ جائے گیاس کے سر میں جوئیں پڑجائیں گی‘ نزلہ وزکام کی وجہ سے ناک بہتی ہے‘ پیشاب پاخانہ روز اس کا نکلتا ہے اور پھر اس سے بڑی بات یہ کہ مطلب پرست ہے اب تو آپ کے پاس ہے آپ طےذرا آنکھ بند کریں گےتو یہ کسی اور کی بن جائے گی تو ایسی بے وفا اور ایسی فنا ہونے والی چیز کی میں تو اتنی ہی قیمت دے سکتا ہوں اس سے زیادہ نہیں دے سکتا.

باندی کے مالک نے کہا مگر آپ نے یہ تھوڑی سی قیمت بھی کیوں لگائی؟ کہنے لگے اس وجہ سے کہ مجھے ایک باندی ملتی ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ نے ایسا حسن دیا کہ اگر وہ اپنا دوپٹہ آسمان کی طرف کردے تو سورج کی روشنی ماند پڑجائے اگر وہ مردے سے کلام کرےتو مردہ زندہ ہوجائے‘

اگر کھارے پانی میں تھوکے تو میٹھا پانی ہوجائے‘ لباس پہنے جو ستر رنگ جھلکے اور اس کے اندر اتنی خوبصورتی ہمیشہ کیلئے ہے اور اس کے دل کے اندر اس کی محبت اور وفا کے جذبات کو آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے. یہ آخری رات کو دو نفل پڑھنے پر بندے کو مل جاتی تو جب دو نفلوں پر ایسی چیز ملتی ہے تو پھر اس کی تو میں نے کھجوریں بھی زیادہ ہی قیمت لگادی ہے.۔

ايک کافر نے ايک بزرگ سے کہا اگر تم ميرے تين سوالوں کا جواب دے دوں تو ميں مسلمان ہوجاؤں گا۔

جب ہر کام اللہ کي مرضي سے ہوتا ہے تو تم لوگ انسان کو ذمہ دار کيوں ٹہراتے ہوں؟

جب شيطان آگ کا بنا ہوا ہو تو اس پر آگ کيسے اثر کرے گي؟

جب تمہيں اللہ تعالي نظر نہيں آتا تو اسے کيوں مانتےہو؟

بزرگ نے اس کے جواب ميں پاس پڑا ہو مٹی کا ڈھيلا اٹھا کر اس کو مارا، اس کو بہت غصہ آيا اور اس نے قاضي کي عدالت ميں بزرگ کے خلاف مقدمہ دائر کرديا۔

قاضي نے بزرگ کو بلايا اور ان سے پوچھا کہ تم نے کافر کے سوالوں کے جواب ميں اسے مٹي کا ڈھيلا کيوں مارا؟

بزرگ نے کہا يہ اس کے تينوں سوالوں کا جواب ہے۔

قاضي نے کہا وہ کيسے بزرگ نے کہا اسکے پہلے سوال کا جواب يہ ہے کہ ميں نے يہ ڈھيلا اللہ کي مرضي سے اسے مارا ہے تو پھر اس کا ذمہ دار مجھے کيوں ٹہراتا ہے؟

اس کے دوسرے سوال کا جواب يہ کہ انسان تو مٹی کا بنا ہے پھر اس پر مٹي کے ڈھيلے نے کس طرح اثر کيا؟

اس کے تيسرے سوال کا جواب يہ ہےکہ اسے درد نظر نہیں آتا تو اسے محسوس کيوں ہوتا ہے۔

اپنے سوالوں کے جواب سن کر کافر فورا مسلمان ہوگيا۔

دوستوں۔۔۔۔۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی زندگی وقف کرديتے ہيں اللہ رب العزت ان کی تربيت کرتے ہيں اور کس موقع پر کيا بات کرنی ہے اللہ تعالي انہیں سمجھا ديتا ہے۔

ایک دفعہ داماد رسولؐ حضرت علی ؑ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ ان سے بی بی پاک فاطمۃ الزہرہ ؐ نے فرمایا کہ یا علیؑ میرا انار کھانے کو دل کر رہا ہے۔

حضرت علیؑ اپنی اہلیہ اور دختر رسول ﷺ کی خواہش پوری کرنے کی غرض سے گھر سے نکلے حالانکہ کے اناروں کا موسم نہیں تھا۔

اور ایک یہودی کے پاس پہنچے جو اناروں کی تجارت کرتا تھا۔

آپؑنے اس کے دروازے پر دستک دی جیسے ہی وہ یہودی گھر سے باہر آیا تو اس نے آپ کو دیکھتے ہی آنے کی وجہ پوچھی۔ آپؑ نے یہودی سے فرمایا کہ مجھے ایک انار چاہیئے۔ یہودی نے صاف انکار کر دیا اور کہنے لگا کہ میرے گھر میں اس وقت ایک دانہ بھی انار کا موجود نہیں۔

آپؑ نے فرمایا کہ انار تو تمہارے گھر میں ہے ۔

اُس نے کہاں میں موسیٰ کا امتی ہو کر کہتا ہوں میرے گھر میں انار نہیں ہے۔

آپ مسکرائے اور فرمایا میں محمد مصطفیٰ ﷺکا داماد ہونے کی حیثیت سے فرماتا ہوں کہ انار تمہارے گھر میں موجود ہے۔

یہودی ابھی اپنی ضدپر اڑا تھااور آپ ؑ سے تکرار کر رہا تھا کہ اسکی بیوی جو گھر کے پردے کے پیچھے کھڑی ہو کر سب سن رہی تھی اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ میں کلمہ پڑ ھ رہی ہوں ، تم بھی پڑھ لو کیونکہ گھر میں انار موجود ہے۔

وہ یہودی یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ گھر میرا ہے علم علی ؑ کو ہے۔

اُس نے کلمہ پڑھتے ہوئے انار یا علی سپرد کیا۔

آپ انار لے کر گھر کی طرف چلے کہ راست میں ایک اندھا فقیر بیٹھا صدا لگا رہا تھا کہ ہے کوئی اللہ کا نیک بندہ جو مجھے اللہ کی محبت میں انار کھلائے؟ علیؑ نے صدا سنتے ہی انارکھولا اور اُس فقیر کے دے کرگھر کی طرف چل پڑے۔

گھر پہنچتے ہی آپ جائے نماز پر پہنچے اور یہ سوچنے لگے کہ اب دختر رسولﷺ کو کیا جواب دونگا؟ منگوایا انہوں نے تھا ۔ اتنے میں آواز سیدہؐ آئی کہ یا علی آپ کا شکریہ ، میں نے ایک انار میں فرمائش کی تھی آپ نے دس انار بھیج دیئے۔

علیؑ مسکرائے اور فرمایا کہ یہ انار میں نے نہیں بلکہ آپ کے لیے اللہ نے بھیجے ہیں اور جو آپ کو دے کر گیا ہے وہ قنبر نہیں تھے

انکا نام حبیب بن مالک تھا- وہ یمن کے بہت بڑے سردار تھےابوجہل نے پیغام بھیجا کہ حبیب محمدﷺ نے فلاں تاریخ کو چاند کے دو ٹکڑے کرنے ہیں تم یہاں آجاو چاند کو دیکھنا وہ دو ٹوٹے ہوتا ہے یا نہیں۔

چناچہ حبیب بن مالک نے رخت سفر باندھا اور کوہ ابو قیس پر پہنچ گیے جہاں کفار نے مطالبہ کر دیا تھا کہ آسمانی معجزہ یہاں دکھاو یا چاند کو دو ٹکڑے کرو-میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور چاند دو ٹکڑے کر دیا-اور واپس تشریف لے گیے خصایص الکبری میں موجود ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ تک چاند دو ٹکڑے رہا-

حیبیب بن مالک یہ دیکھ کر حضور اکرم صلی اللہ کے پاستشریف لے آیے اور بولے یہ سب ٹھیک ہے لیکن بتائیں میرے دل کو کیا دکھ ہے ؟آپ نے فرمایا تیری ایک فرمایا تیری ایک ہی بیٹی ہے جسکا نام سطیحہ ہے وہ اندھی لولی لنگڑی بہری اور گونگی ہے- تجھے اسکا دکھ یی اندر سے کھاے جا رہا ہے- جاو اللہ تعالی نے اس کو شفا دے دی ہے

-حبیب یہ سنتے ہی دوڑ کر اپنے گھر آئے تو انکی بیٹی سطیحہ نے کلمہ پڑھتے دروازہ کھولا – حبیب نے پوچھا کہ سطیحہ تجھے یہ کلمہ کس نے سکھایا تو اس نے حضور اکرمﷺ کا سارا حلیہ بتایا اور بولی اے ابا وہ آیے مجھے زیارت بخشی اور دعا فرمائ – اور مجھے کلمہ طیبہ بھی پڑھا گیے-حبیب واپس گیے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیے نہ صرف مسلمان ہویے بلکہ اسلام کی خدمت میں بھی پیش پیش رہے-

بحوالہ خصایص الکبریبحوالہ شرح قصیدہ بردہ خرپوتیبحوالہ معجزات مصطفےصلو علی الحبیب صلی اللہ تعالی علی محمدﷺانکا نام حبیب بن مالک تھا- وہ یمن کے بہت بڑے سردار تھےابوجہل نے پیغام بھیجا کہ حبیب محمدﷺ نے فلاں تاریخ کو چاند کے دو ٹکڑے کرنے ہیں تم یہاں آجاو چاند کو دیکھنا وہ دو ٹوٹے ہوتا ہے یا نہیں۔

چناچہ حبیب بن مالک نے رخت سفر باندھا اور کوہ ابو قیس پر پہنچ گیے جہاں کفار نے مطالبہ کر دیا تھا کہ آسمانی معجزہ یہاں دکھاو یا چاند کو دو ٹکڑے کرو-میرے آقا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور چاند دو ٹکڑے کر دیا-اور واپس تشریف لے گیے خصایص الکبری میں موجود ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ تک چاند دو ٹکڑے رہا-

حیبیب بن مالک یہ دیکھ کر حضور اکرم صلی اللہ کے پاستشریف لے آیے اور بولے یہ سب ٹھیک ہے لیکن بتائیں میرے دل کو کیا دکھ ہے ؟آپ نے فرمایا تیری ایک فرمایا تیری ایک ہی بیٹی ہے جسکا نام سطیحہ ہے وہ اندھی لولی لنگڑی بہری اور گونگی ہے- تجھے اسکا دکھ یی اندر سے کھاے جا رہا ہے- جاو اللہ تعالی نے اس کو شفا دے دی ہے-

حبیب یہ سنتے ہی دوڑ کر اپنے گھر آئے تو انکی بیٹی سطیحہ نے کلمہ پڑھتے دروازہ کھولا – حبیب نے پوچھا کہ سطیحہ تجھے یہ کلمہ کس نے سکھایا تو اس نے حضور اکرمﷺ کا سارا حلیہ بتایا اور بولی اے ابا وہ آیے مجھے زیارت بخشی اور دعا فرمائ – اور مجھے کلمہ طیبہ بھی پڑھا گیے-حبیب واپس گیے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیے نہ صرف مسلمان ہویے

بلکہ اسلام کی خدمت میں بھی پیش پیش رہے-بحوالہ خصایص الکبریبحوالہ شرح قصیدہ بردہ خرپوتیبحوالہ معجزات مصطفےصلو علی الحبیب صلی اللہ تعالی علی محمدﷺ

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی چیز مسکراہٹ کا سبب ہوئی ؟

آپؐ نے فرمایا’’ میرے دو اْمتی اللہ تعالی کےسامنے گھٹنے ٹیک کر کھڑے ہو گئے ہیں ایک کہتا ہے کہ یا اللہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے میں بدلہ چاہتا ہوں،اللہ پاک اس ظالم سے فرماتا ہے کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کرو۔

ظالم جواب دیتا ہے یا رب !اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کےبدلے میں اسے دے دوں۔تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے ‘‘۔یہ کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے ۔

وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا، لوگ اس بات کے حاجت مند ہونگےکہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں۔اب اللہ پاک طالب انتقام(مظلوم) سے فرمائے گا ۔نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ وہ سر اٹھائے گا , جنت کی طرف دیکھے گا اور عرض کرے گا: یا رب! اس میں تو چاندی اور سونے کے محل ہیں اور موتیوں کے بنے ہوئے ہیں.

یا رب ! کیا یہ کسی نبی ،کسی صدیق اور شہید کے ہیں ؟اللہ تعالی فرمائے گا !جو اس کی قیمت ادا کرتا ہے اس کو دے دئیے جاتے ہیں۔وہ کہے گا! یا رب ! بھلا اسکی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟

اللہ تعالی فرمائے گا : تو اس کی قیمت ادا کرسکتا ہے۔اب وہ عرض کریگا :یا رب کس طرح؟اللہ جل شانہ ارشاد فرمائے گا اس طرح کہ تو اپنے بھائی کو معاف کر دے۔ وہ کہے گا یا رب! میں نے معاف کیا۔

اللہ پاک فرمائے گا، اب تم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے جنت میں داخل ہو جاؤ۔

اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا! اللہ تعالی سے ڈرو،آپس میں صلح قائم رکھو کیونکہ قیامت کے روز اللہ پاک بھی مومنین کے درمیان میں صلح کرانے والا ہے۔(صحیح بخاری)(م،ش)

 

ایک گاؤں میں ایک اجنبی شخص آیا اور اس نے اعلان کروایا کہ وہ گاؤں والوں سے ایک بندر دس روپے میں خریدے گا ۔

اس گاؤں کے اردگرد بہت زیادہ بندر تھے دیہاتی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے بندر پکڑنا شروع کردیئے،اس آدمی نے ایک ہزار بندر دس،دس روپے کے بدلے میں خریدےاب گاؤں میں بندروں کی تعداد کافی کم ہو چکی تھی۔

چند ایک بندر باقی تھے جنہیں پکڑنا دشوار ہو گیا تھا اس وقت تاجر نے اعلان کیا کہ اب وہ بندر بیس روپے میں خریدے گا ۔

اس سے دیہاتیوں میں نیا جذبہ پیدا ہو گیااور ایک دفعہ پھر انہوں نے پوری طاقت سے بندر پکڑنا شروع کئے چند دن بعد بندر اکا دکا ہی نظر آتے اور اس نئے آئے ہوئے تاجر کے ایک بڑے پنجرے میں تقریبا تیرا سو بندر جمع ہو چکے تھے، جب تاجر نے بندروں کی خریداری میں سستی دیکھیتو اس نے فی بندر پچیس روپے مقرر کیے اور اگلے دن قیمت پچاس روپے کر دی۔

اس قیمت میں اس نے صرف نو بندر خریدے۔

اب جو بندر بھی نگاہ انسان کی زد میں آتا،داخل زندان کر دیا جاتا۔اس کے بعد وہ کام کے سلسلے میں کسی دوسرے شہر چلا گیا اور اس کا اسسٹنٹ کام سنبھالنے لگا:اس کی غیر موجودگی میں اس کے اسسٹنٹ نے دیہاتیوں کو جمع کر کے کہا :اس بڑے پنجرے میں تقریبا چودا سو پچاس جانور ہیں جو استاد نے جمع کیے ہیں میں ایسا کرتا ہوں کہ تم سب کو سارے بندر 35 روپے فی بندر کے حساب سے بیچ دیتا ہوں : جب استاد آئے تو تم اسے پچاس روپے میں بیچ دینا ! دیہاتی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے ساری جمع پونجی خرچ کر کے بندر خرید لیے

لیکن اگلے دن کچھ ایسا ہوا کہ: انہوں نے نہ کہیں تاجر کو دیکھا نہ ہی اس کے اسسٹنٹ کو،بس ہر جگہ بندر ہی بندر تھے۔

وہ کہتے ہیں نا کہ: جب تک لالچی موجود ہیں ٹھگ کبھی نہیں مرتے!انسان کی لالچ کا پیالہ کبھی نہیں بھرتا کیونکہ اس میں ناشکری کے سوراخ موجود ہوتے ہیں جواس کو کبھی بھرنے نہیں دیتے!

 

بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں

ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا،

کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے، کہا کہ ہم سے ابورجاء بصریٰ نے بیان کیا، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات (خواب میں) میں نے دو آدمی دیکھے، وہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس میں لے گئے، پھر ہم سب وہاں سے چلے یہاں تک کہ ہم ایک خون کی نہر پر آئے، وہاں (نہر کے کنارے) ایک شخص کھڑا ہوا تھا، اور نہر کے بیچ میں بھی ایک شخص کھڑا تھا۔

(نہر کےپر) کھڑےوالے کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ بیچ نہر والا آدمی آتا اور جونہی وہ چاہتا کہ باہر نکل جائے فوراً ہی باہر والا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارتا جو اسے وہیں لوٹا دیتا تھا جہاں وہ پہلے تھا۔ اسی طرح جب بھی وہ نکلنا چاہتا کنارے پر کھڑا ہوا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ مارتا اور وہ جہاں تھا وہیں پھر لوٹ جاتا۔

میں نے (اپنے ساتھیوں سے جو فرشتے تھے) پوچھا کہ یہ کیا ہے، تو انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نہر میں تم نے جس شخص کو دیکھا وہ سود کھانے والا انسان ہے۔ بحوالہ: صحیح البخاری، جلد دوم، حدیث نمبر 2085مزید اچھی پو سٹ پڑھنے

 

Copyright 2020 | Anzik Writers