گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں کا کیا بھائو لگایا ہے؟

دکاندار نے جواب دیا: کیلے 12 درہم اور سیب 10 درہم۔اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک درجن کیلے چاہئیں، کیا بھائو ہے؟

دکاندار نے کہا: کیلے 3 درہم اور سیب 2 درہم۔ عورت نے الحمد للہ پڑھا۔

دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضبناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا، اس سے پہلے کہ کچھ اول فول کہتا: دکاندار نے گاہک کو آنکھ مارتے ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔

عورت خریداری کر کے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑبڑائی: اللہ تیرا شکر ہے، میرے بچے انہیں کھا کر بہت خوش ہونگے۔عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے پہلے سے موجود گاہک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا:

اللہ گواہ ہے، میں نے تجھے کوئی نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔

یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔

میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بار ناکامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کو چیز دیدوں۔

میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے لگے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔

میں یہ تجارت اللہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔

دکاندار کہنے لگا: یہ عورت ہفتے میں ایک بار آتی ہے۔ اللہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے‘ اس دن میری بکری بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے غیبی خزانے سے منافع دو چند ہوتا ہے۔

گاہک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے بڑھ کر دکاندار کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جو لذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو۔

 

دو مریض اسپتال کے بستروں پر لیٹے ہوئے تھے، ایک شخص بیٹھنے کے قابل تھا، اس کابستر کمرے میں موجود کھڑکی کے پاس تھا۔ جب کہ دوسرا شخص پورا دن اپنے بستر پر لیٹ کر گزارتا تھا، کھڑکی والا شخص بیٹھ کر اپنے پڑوسی کو سب بتاتا جو اسے کھڑ کی سے نظر آتا تھا۔

دوسرا شخص وہ سب سننے کا انتظار کیاکرتا تھا، کھڑکی سے ایک باغ نظرآتا تھا، جس میں خوبصورت نہر بھی تھی۔ اس نہر میں بچے کھلونا کشتیاں چلاتے تھے، منظر بہت دلفریب تھا کھڑکی کے نزدیک والا برابر لیٹے ہوئے شخص کو تمام تفصیلات بتاتا اور لیٹا ہوا شخص تصور کی دنیا میں کھوجاتا تھا۔

ایک دن نرس کمرے میں داخل ہوئی اور کھڑکی والے شخص کو مردہ پایا۔ دوسرے شخص نے اپنا بستر کھڑکی کے پاس لگانے کی فرمائش کی، نرس نے ایسا ہی کیا اور کمرے سے چلی گئی اس شخص نے کہنیوں کے بل بمشکل اٹھنے کی کوشش کی تاکہ کھڑکی سے جھانک سکے۔

لیکن اسے صرف دیوار نظر آئی اس شخص نے نرس کو بلایا، اور پوچھا کہ یہاں موجود مریض وہ سب کیسے دیکھ لیتا تھا۔ جو وہ مجھے بتایا کرتا تھا؟ نرس نے بتایا وہ شخص نابینا تھا، اور یہ دیوار تک دیکھنے کے قابل نہیں تھا، وہ شاید دوسرے مریض میں زندگی کی لہر دوڑانا چاہتا تھا، اسے خوشی دینا چاہتا تھا۔

اپنی تکلیف بھول کر دوسروں کو خوشی دینے سے بڑھ کر دوسری کوئی خوشی نہیں خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ آپ بھی دنیا میں تھوڑی سی خوشی کی وجہ بن کر اس دنیا کو مزید بہتر بنائیں جزاک اللہ۔

کہتے ہے کہ کچھ لوگ سانپ کی طرح ہوتے ہے۔ جو حقیقت میں کچھ اور ہوتے ہے۔ لیکن اندر سے کچھ اور۔ ایک خاتون نے سانپ پال رکھا تھا جس سے وہ بے حد پیار کر تی تھی ،سانپ تقریباً سات فٹ لمبا تھا جس نے اچانک ایک دن کھانا پینا بند کردیا۔خاتون نے کئی ہفتوں سانپ کو کھانا کھلانے کی کوشش جاری رکھی لیکن وہ ناکام رہی جس پر خاتون اپنے پالتو سانپ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔

خاتون نے ڈاکٹر کو تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا جس پر ڈاکٹر نے سوال کیا کہ کیا ہر رات سانپ آپ کے ساتھ سوتا تھا‘خاتون نے جواب دیا جی ہاں۔

ڈاکٹر نے پھر سوال کیا ‘ جب سے اس نےکھانا پینا چھوڑانےکھانا پینا چھوڑا ہے کیا یہ آپ کے جسم کے بے حد قریب لیٹ کر اپنے جسم کو اکٹراتا تھا؟جس پر خاتون نے برجستہ جواب دیا‘ جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے اور مجھے انتہائی افسوس ہے کہ میں اپنے سانپ کو بہتر محسوس کرانے کیلئے اس کی کوئی مدد نہیں کر پار ہی ہوں۔

ڈاکٹر نے خاتون کا جواب سننے کے بعد کہا ‘محترمہ آپ کا سانپ بیمار نہیں ہے بلکہ یہ آپ کو کھانے کی تیاری کر رہاہے‘سانپ آپ کی جسامت کا روزانہ اندازہ لگاتا رہاہے اور اس نے کھانا پینا اس لیے بند کر دیا ہے کہ آپ کو کھانے کیلئے وہ جگہ بنا سکے۔

خاتون ماہر کی یہ بات سن کر سکتے میں آ گئی۔خاتون نے اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنے ارد گرد موجودسانپوں کو پہچاننا ہے جوکہ آپ کے نہایت قریب ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے بیڈ پر سوتے ہیں ‘اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ آپ کے بارے میں اچھے خیالات رکھتے ہیں‘ ضروری نہیں کہ آپ کے آس پاس پھرنے والے لوگ‘ آپ کے ساتھ کھانے پینے اوراٹھنے بیٹھنے والے تمام لوگ آپ کے ہمدرد ہیں ‘ بس آپ نے ان کو پہچاننا ہے۔ ہم امید کرتے ہے۔ کہ اج کی تحریر اپ کو ضرور پسند آئی ہونگی۔

دوستو، بچپن سے سنتے آرہے ہیں، تندرستی ہزار نعمت ہے۔۔ یعنی ’’تن درستی‘‘ کو ہزار نعمت قرار دیاگیا ہے۔۔

یہ جس نے قرار دیا وہ یقینی طور پر ’’زن درستی‘‘ سے لاعلم ہوگا۔۔ ہمارے محترم دوست عبدالحکیم ناصف جو کہ معروف مزاحیہ شاعر بھی ہیں انہوں نے تندرستی کی ٹکر پر ’’زن درستی‘‘ کو تعارف کرایا ہے۔۔

نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔ بقول عبدالحکیم ناصف صاحب کہ۔۔انتخاب اس کا سوچ کر کیجو، ورنہ ہستی مری قیامت ہے۔۔تن درستی کی فکر چھوڑ ابا، ’’زن درستی‘‘ ہزار نعمت ہے۔۔ہم چونکہ حکیم صاحب کے متاثرین میں شامل ہے اس لئے آج ’’زن درستی‘‘ پر کچھ اوٹ پٹانگ باتیں کی جائیں گی۔۔جب کوئی عورت یہ کہے اس دنیا کے سارے مرد جھوٹے اور بے وفا ہیں کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا اس نے دنیا کے سارے مردوں کو آزما لیا ہے۔

بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے جس شخص کو آزمایا وہ اکیلا اس کیلئے پوری دنیا کے برابر تھا۔۔اسی پرایک واقعہ یاد آگیا، ہمارے پیارے دوست اپنی گرل فرینڈ سے رومانٹک موڈ میں کہہ رہے تھے، مجھے تمہاری آنکھوں میں پوری دنیا نظر آرہی ہے۔۔پاس سے گزرنے والے نوجوان نے جو شاید فیصل آبادی تھا درمیان میں دخل در نامعقولات کرتے ہوئے بول پڑا۔۔

میری جوتی دیکھنا جو کل مسجد سے ’’گواچی‘‘ تھی۔۔۔ایک ڈھول والا شادی میں ڈھول بجا رہا تھا ،ڈھول کے دونوں طرف دو مختلف عورتوں کی تصویریں تھیں۔۔یہ دیکھ کر ایک بزرگ نے اس سے پوچھا ۔۔خوبصورتی کے پجاری لگتے ہیں ۔۔ڈھول والا مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔پجاری جیسی کوئی بات نہیں۔۔ڈھول کے ایک طرف میری ساس کی تصویر ہے،دوسری طرف آپ سمجھ گئے ہوں گے، گھر میں یہ موقع نہیں ملتا، اس لئے یہاں دے دھنادھن۔۔۔ساسوں سے متعلق یہ نظریہ عام ہے کہ انہیں اپنی بیٹیاں،بیٹیاں لگتی ہیں اور بہوئیں ’’غلام‘‘، ساس کبھی بہو کو بیٹی تسلیم ہی نہیں کرتی، (یہ ہم اکثریت کی بات کررہے ہیں) حالانکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔۔

شوہروں سے پوچھوتو وہ بتاتے ہیں کہ ساس ہی اپنی بیٹی کو خوب سکھاتی ہے۔۔

بیگم صاحبہ کسی بھی گھر کی ’’وزیرداخلہ‘‘ ہوتی ہے، یعنی ’’دخول ‘‘ کے تمام معاملات انہی کے سپرد ہوتے ہیں،کس کا گھر میں داخلہ ہوگا کس کا داخلہ ممنوع ہے، کس بچے کا کون سی کلاس میں داخلہ کرانا ہے، کس رشتے دار سے ملنا ہے،کس کی انٹری بند ہے، کس بچے کا خرچہ بند کرنا ہے، ایسے کئی مسائل پر بیگم صاحبہ کی کافی گہری نظر ہوتی ہے، ایک بیگم صاحبہ نہایت گڑگڑا کر اور بہت ہی خشوع و خضوع سے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگو تھی کہ۔۔

یااللہ میرے شوہر کو بہت سارا پیسہ دے، اچھی سی گاڑی دے، بہترین سا بنگلہ دے، باقی اس سے لینا میرا کام ہے۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ۔۔

دعاؤں میں ہیرپھیر نہیں کرنی چاہیئے ،صدق دل سے جو دعا کی جائے اللہ تبارک و تعالیٰ ضرور سنتا ہے اور اسے پوری بھی کرتا ہے۔۔ایک لڑکی نے بہت عقیدت و احترام سے نماز پڑھی پھر دعا کی کہ۔۔

یااللہ میں اپنے لئے کچھ نہیں مانگتی بس میری امی کو ایک خوب صورت اور امیروکبیر داماد عطا فرما۔۔کچھ دنوں کے بعد دعا قبول ہوئی اور اس کی چھوٹی بہن کی شادی ہو گئی۔۔

اسی لئے ہمارے پیارے دوست کا کہناہے کہ جو دل میں ہو وہی دعامانگو۔ایسا ہی ایک بیوی کے ہاتھوں ستایا ہوا شوہرکسی کے بتانے پر ایک ’’آستانے‘‘ گیا، جہاں سات ملنگ سات چٹائیوں پر لیٹے ہوئے تھے،مظلوم شوہر نے سب سے بڑے ملنگ سے کہا، باباجی میری بیوی بہت لڑاکا ہے،کوئی حل بتادیں۔۔اس ملنگ نے سب سے چھوٹے ملنگ کو آواز دی۔۔چھوٹو ایک چٹائی اور بچھا دے۔۔

دنیا کے تنہا ترین درخت کا قصہء غم

تحریر: ندیم رزاق کھوہارا

اس نے پہلی بار جب کونپلیں کھولیں تو اس کے اردگرد ایک بہار تھی سبزے کی بہار۔۔۔۔ اس کے جیسے کئی ایسے درخت تھے جو جابجا، قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ کچھ اس کی طرح ابھی سر اٹھا رہے تھے کچھ شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے۔ وہ بھی ان کی طرح مٹی میں قدم جمائے سر اٹھاتا چلا گیا۔ لیکن جب تک وہ اپنے ساتھیوں کے برابر پہنچا تو ان میں سے کوئی نہ بچا تھا۔ وہ تنہا ہو چکا تھا۔ اتنا تنہا کہ اس کے آس پاس سینکڑوں کلومیٹر تک اس جیسا کوئی نہ تھا۔ وہ دنیا کا دنیا ترین درخت تھا۔

اگر آپ دنیا کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو افریقی ممالک کے عین بیچوں بیچ نائیجر نام کا ایک ملک نظر آئے گا۔ نائیجر جو کہ آج کل صحرائے اعظم صحارا کا حصہ بن چکا ہے۔ کبھی ایک ہرا بھرا خطہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے ایک مقام پر کیکر نما درختوں کی بڑی لمبی قطار ہوا کرتی تھی۔ جن میں ایک وہ بھی تھا۔ وہ سب شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے۔ لیکن پھر صحرائے اعظم نے اس رقبے کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا۔ زمین نے رنگ بدلا تو اس کے قدموں تلے بچھی بھوری مٹی سنہری ریت میں تبدیل ہوتی گئی۔ اس کے ساتھی اس تبدیلی کو سہار نہ پائے۔ ایک ایک کر کے سب سوکھتے گئے۔ جوں جوں ریت کا پھیلاؤ بڑھتا گیا توں توں درختوں کی ہریالی سمٹتی گئی۔ گیلی مٹی میں بنیاد جمائے درخت خشک ریت کی نذر ہوتے گئے۔
کھیت کھلیان میں شان سے سر اٹھائے کیکر ریگستان کے سامنے سرنگوں ہوتے گئے اور صحرا بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ مقام جہاں ہر طرف ہرے بھرے درختوں کی بہار ہوا کرتی تھی وہاں صرف ایک درخت باقی بچا۔۔۔۔ طنیرے کا واحد درخت

طنیرے بربری زبان میں صحرا کو کہا جاتا ہے۔ صحرائے صحارا کے بیچوں بیچ کھڑا یہ واحد درخت تھا جو سانس لے رہا تھا۔ سانس دے رہا تھا۔ سال دہائیوں میں اور دہائیاں صدی میں بدلتی گئیں۔ لیکن یہ تنہا و یکتا طنیرے کا درخت کھڑا رہا۔ اتنا تنہا کہ اس کے آس پاس چار سو کلومیٹر تک اور کوئی درخت نہ بچا تھا۔ فاصلے کے کا اندازہ یوں لگا لیجیے کہ آپ اسلام آباد سے بذریعہ لاہور ملتان کی جانب سفر کریں تو آپ کو پورے علاقے میں صرف لاہور میں کھڑا ایک درخت نظر آئے۔ وہ اتنا تنہا تھا کہ اس کے اردگرد سبزے کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔ اور درخت کے علاوہ باقی تھی تو صرف ریت۔۔۔

تنہائی ایک ایسا لفظ ہے جس کو تصور ذہن میں آتے ہی اداسی، یاسیت اور اکیلے پن کا احساس ابھرتا ہے۔ شاید ایسے ہی کسی موقعے پر شاعر کہا ہے۔۔۔۔
دلِ ویراں ہے تیری یاد ہے تنہائی ہے۔۔۔۔
زندگی درد کی بانہوں میں سمٹ آئی ہے

لیکن اس قدر تنہائی کے باوجود یہ درخت یاسیت کی بجائے زندگی کی علامت بن کر ابھرا۔

بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں اس درخت کو اہمیت ملنا شروع ہوئی جب علاقے کی نقشہ کشی کرنے کے لیے اسے ایک لینڈ مارک کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ یورپ سے افریقہ تک سائنسدانوں کی سروے ٹیمیں آتیں تو ہر سروے کے لیے اس درخت کو بینچ مارک کے طور پر استعمال کرتی۔ ایسا کرنا ان کی مجبوری بھی تھی کیونکہ اس کے سواء سینکڑوں کلومیٹر تک ایسا اور کوئی مقام نہیں تھا جسے مارک کے طور پر چنا جا سکے۔ نہ صرف سروے بلکہ یہ درخت آنے جانے والے قافلوں کے لیے بھی سستانے اور دم بھرنے کا مقام اختیار کر چکا تھا۔

اونٹوں کے قافلے گذرتے رہے۔ کاروان چلتے رہے۔ درخت کھڑا رہا۔ نہ تو بھٹکے ہوئے اونٹ اس کی شاخیں غذا کے لیے استعمال کرتے تھے نہ ہی تھکے ماندے قافلے اس کی شاخوں کو چائے کی خاطر آگ جلانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ کیونکہ یہ سب کے لیے ایک مقدس درخت کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ ایسا مقدس جس کا دور دور تک کوئی ثانی نہیں۔ جو تنِ تنہا کھڑا ہو کر تپتی دھوپ میں سستانے کا مقام مہیا کرتا تھا۔ موت کی ویرانی میں بھی جینے کا سامان مہیا کرتا تھا۔ تھکے ہوئے جسموں کو آرام مہیا کرتا تھا۔ خود بے نشان ہو کر بھی بھٹکے ہوؤں کو نشان مہیا کرتا تھا۔ یہ محض ایک درخت نہیں رہا تھا۔ ایک مقدس روح تھی جو باعثِ تسکین و راحتِ جاں تھی۔

سال انیس سو اڑتیس میں اس درخت کے پاس ایک کنویں کی کھدائی کی گئی تو ماہرین یہ جان کر حیران رہ گئے کہ اس کی جڑیں پانی کی تلاش میں ایک سو بیس فٹ گہرائی تک پہنچ چکی ہیں۔ خشک ہو چلی آنکھوں کو نمی کا احساس دلانے والا نمی کی تلاش میں خشکی کا سینہ چیر کر ان گہرائیوں تک جا پہنچا تھا جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس دوران یکے بعد دیگر ہونے والی جنگ ہائے عظیم کے سائے پوری دنیا پر لہرائے تو اس کے اثرات صحارا پر بھی نظر آئے۔ جب یہاں پر دو صحرائی مقامات کو ملانے کے لیے ایک طویل سڑک تعمیر کی گئی جو کہ اس درخت کے پاس سے گذرتی تھی۔ تب 1934 میں یہاں سے گذرنے والے گاڑیوں کے پہلے قافلے میں فرانسیسی سیاح ہینری لیہوٹے نے بھی سفر کیا۔ انہوں نے پچیس سال بعد انیس سو انسٹھ میں جب دوبارہ یہاں کا سفر کیا تو اپنے تاثرات کچھ یوں قلمبند کیے۔۔۔

"جب میں نے پہلی بار اس درخت کو دیکھا تھا تو اس پر چھوٹے چھوٹے زرد پھول کھلے ہوئے تھے۔ جو صحرا میں بھی بہار کا منظر پیش کر رہے تھے۔ لیکن اب یہ ایک ٹنڈ مند سے درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے جس پر خزاں کی زردی چھائی ہے۔ پہلے اس کے دو تنے ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج بس ایک تنا ہے۔ تنہا درخت کا تنہا تنا۔۔۔ دوسرا تنا ریت سے کچھ اوپر کٹا ہوا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ٹرک اس سے آ کر ٹکرایا ہے۔ لوگوں کو راحت مہیا کرنے والا یہ درخت جس نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا ہماری مشینی زندگی کا شکار ہو گیا۔"

لیکن اس درخت میں ابھی زندگی کی رمق باقی تھی۔ یہ ایک بار پھر سے اُگا۔ ہر سال نئے پتے نکالتا اور پرانے جھاڑتا رہا۔ اپنی ہریالی سے انسانوں کو فائدہ دیتا رہا۔ لیکن ہم انسان شاید اس لائق نہیں تھے۔ تقریباً چودہ سال بعد سال 1973 میں ایک اور ٹرک اس سے آ ٹکرایا۔ نشے میں دھت ڈرائیور نے بے قابو ٹرک درخت میں دے مارا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ یہ جڑ سے اکھڑ گیا۔ صدیوں سے مصائب کا سامنا کر کے بھی زندہ رہنے والا سخت جان درخت یہ صدمہ سہ نہ پایا۔ اور اپنی زندگی ہار گیا۔ نائیجر کی حکومت نے باقی ماندہ تنے کو اٹھا کر قومی عجائب گھر میں رکھ دیا۔ جہاں آج بھی ایک آہنی چھت تلے کھڑا اس کا سوکھا ہوا تنا مظہر العجائب ہے۔ جبکہ اس کے اصل مقام پر ایک دھاتی تنا یادگار کے طور پر نصب کیا گیا ہے۔ لیکن دھات بھلا کہاں زندگی کے نشاں دیتی ہے۔

اس درخت کے بارے میں بے شمار کتب، مضامین اور کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ اور مقامی طور پر کئی روایات بھی موجود ہیں۔ طنیرے کا یہ کیکر اتنا سخت جان تھا کہ بھاری ٹرک کی ٹکر کو بھی سہ سکتا تھا۔ اس کی بنیادیں اتنی مضبوط تھیں کہ وہ ایک بار پھر سَر اٹھا سکتا تھا۔ لیکن درخت بھی آخر احساس رکھتے ہیں۔ کیا ضروری تھا کہ یہ سڑک درخت کے پاس ہی بنائی جاتی؟ اور کیوں آخر ایک ٹرک بے قابو ہو کر اس درخت سے ہی ٹکرایا۔ سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرتا یہ ٹرک بے قابو ہو کر ریت میں بھی تو دھنس سکتا تھا؟ سو سالوں سے تتنہائیوں کے دشت میں کھڑے اس کیکر نے قرنطینہ میں رہ کر ہر طرح کے آلام جھیلے تھے۔ وہ غیر معمولی طور پر سخت جان تھا۔ لیکن شاید مشینی زندگی کا وائرس اگر پھیل جائے تو اس کے سامنے قرنطینہ جیسی تنہائی بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

(ندیم رزاق کھوہارا)

اب وہ اگلا سا التفات نہیں
جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں

مجھ کو تم سے اعتماد وفا
تم کو مجھ سے پر التفات نہیں

رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ
زندگی موت ہے حیات نہیں

یوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکن
فرصت غم کو بھی ثبات نہیں

کوئی دل سوز ہو تو کیجے بیاں
سرسری دل کی واردات نہیں

ذرہ ذرہ ہے مظہر خورشید
جاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں

قیس ہو کوہ کن ہو یا حالیؔ
عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

بزم شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا
رکھیو یا رب یہ در گنجینۂ گوہر کھلا

شب ہوئی پھر انجم رخشندہ کا منظر کھلا
اس تکلف سے کہ گویا بت کدے کا در کھلا

گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر کھلا

گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا

ہے خیال حسن میں حسن عمل کا سا خیال
خلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا

منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
زلف سے بڑھ کر نقاب اس شوخ کے منہ پر کھلا

در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیا
جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول
آج ادھر ہی کو رہے گا دیدۂ اختر کھلا

کیا رہوں غربت میں خوش جب ہو حوادث کا یہ حال
نامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا

اس کی امت میں ہوں میں میرے رہیں کیوں کام بند
واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا

وہ نہتا نہیں اکیلا ہے

معرکہ اب برابری کا ہے

اپنی آنکھیں بچا کے رکھنا تم

اس گلی روشنی زیادہ ہے

اتنی راس آ گئی ہے تنہائی

خود سے ملنا بھی اب اکھرتا ہے

آج کے دن جدا ہوا تھا وہ

آج کا دن پہاڑ جیسا ہے

خود کو کب تک سمیٹنا ہوگا

اس نے کتنا مجھے بکھیرا ہے

رنگ تعبیر کا خدا جانے

خواب آنکھوں میں تو سنہرا ہے

چاہے مٹھی میں ایک جگنو ہو

کوئی پوچھے کہو ستارہ ہے

کئی سمتوں میں رستہ بٹ رہا ہے

مسافر سوچ میں ڈوبا ہوا ہے

یہ ممکن ہے کہ اس سے ہار جاؤں

مری ہی طرح سے وہ سوچتا ہے

نظر انداز کیوں کرتے ہو اس کو

بدن بھی عشق میں اک مرحلہ ہے

جدائی لفظ سے بھی کانپتے ہیں

تعلق اتنا گہرا ہو گیا ہے

میں نے تُم کو سُنا

جیسے پانی مُنکشف ہوتا ہے

جیسے زمین،

مجذوب سی سرشاری میں لپٹی ہوئی

اپنی پیاس کو گلے لگاتی ہے

میں نے تُم کو سُنا

اور میری سماعت جاگ گئی

جیسے بارش کی بوندیں پڑنے کے بعد

مٹّی کی سوئی ہوئی خوشبو بیدار ہوتی ہے

میں نے تُم کو سُنا

جیسے پانی مجھ سے مخاطب ہو

بلکل اسی طرح

جیسے تمہاری خوشبو کی آنکھ

مجھے ڈھونڈتی ہے

دن اور رات سے بے نیاز ہوکر

میں نے اسی طرح

آوازوں سے بے نیاز

تُم کو سُنا

میں نے تُم کو سُنا

اُس وقت جب سارے حروف

اور سب علامتیں

طوفانی ہواؤں کی زد میں تھیں

اور خیالات بادلوں کی طرح

ایک دوسرے میں مدغم ہورہے تھے

اور میں اپنے وجود کے دو راہے پر

تنہا کھڑا تھا

میں نے تُم کو سُنا

جیسے کوئی دروازہ کسی دستک کو سُنتا ہے

جیسے دُھند پُل عبور کرتا ہے

جیسے کوئی جھونکا

کسی مخصوص شاخ کو چھیڑنے کی غرض سے

جنم لیتا ہے

میں نے تُم کو سُنا

اور میری تطہیر ہوگئی ۔ ۔!

Copyright 2020 | Anzik Writers