ایک شخص کو اللہ نے بہت بڑی زرعی زمین سے نوازا تھا اس کی زمین اتنی تھی۔ کہ تین ریلوے اسٹیشن اس کی زمین میں بنے ہوئے تھے یعنی پہلا ریلوے اسٹیشن پھر دوسرا اور پھر تیسرا ان کے ہی زمین میں تھا۔ اتنی جاگیر کا مالک کروڑوں پتی تو کیا بلکے اربپتی بندہ تھا ایک دوفعہ دوستوں کے ساتھ شہر کے مرکزی چوک میں کھڑا ہوا باتیں کر رہا تھا۔ دوستوں نے کہا کہ اجکل کاروبار کی کچھ پریشانیاں ہیں۔ وہ ذرا موڈ میں آ کے کہنے لگا۔ او! بھوکے ننگو، تمہارے پلے ہے ہی کیا ہے۔

کبھی کبھی جب پیٹ بھر کر کھانے بھر کر کھانے کو مل جاتا ہے نا تو بندہ خدا کے لہجے میں بولنا شروع کر دیتا ہے۔ اس نے دوستوں کو کہا کہ تم پریشان رہتے ہو کہ آئے گا کہاں سے اور میں تو پریشان پھرتا ہوں کہ لگاؤں گا کہاں پہ۔ بس یہ عجب کا بول اللہ تعالیٰ کو نا پسند آ گیا۔ بیمار ہو گیا اور چند مہینوں کے بعدخود تو دنیا سے رخصت ہوا اور ایک بیٹا پیچھے چھوڑ گیا۔ جوان العمر بیٹا جب سر پر باپ نہیں اور کروڑوں کا سرمایہ ہاتھ میں ہے تو پھر اس کے کئی الٹے سیدھے دوست بن گئے۔ اس کو انہوں نے شراب اور شباب والے کاموں میں لگا دیا اب جوانی بھی لٹ رہی ہے۔ مال بھی لٹا رہے ہیں وہ اپنی مستیاں اڑا رہا ہے کسی نے اس کو یہاں سے لاہور کا راستہ دکھا دیا۔ پھر کسی نے لاہور سے کراچی کا راستہ دکھا دیاکسی نے اس کو جوئے کا راستہ دکھا دیا۔ کسی نے کہا کہ کیا تم پاکستان میں پڑے ہو چلو باہر کسی ملک میں چلتے ہیں۔ اس نے اسے بنکاک کا راستہ دکھا دیا۔ پانی کی طرح اس نے پیسہ بہایا اور جوئے میں پھر کروڑوں ہارے۔ حتیٰ کہ جتنا بینک میں تھا سارا لگ گیا زمینیں بکنا شروع ہو گئیں۔ آہستہ آہستہ ایک ایک مربع زمین بکتی گئی اور وہ لگاتا گیا ایک وہ وقت آیا جب ساری زمینیں بک گئیں۔ پھر وہ وقت آیا کہ وہ نوجوان جس گھر میں رہتا تھا۔اس کو وہ گھر بھی بیچنا پڑا۔ اب اس کے پاس اپنا گھر نہیں تھا۔ کھانے کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ جس جگہ پر اس کے باپ نے بڑا بول بولا تھا، اس کا بیٹا اسی جگہ پر آ کر کھڑا ہوتا اور لوگوں سے بھیک مانگا کرتا تھا۔ شاید یہ کہانی ارضی ہو۔ لیکن ایک بات واضح ہے۔ کہ اللہ سبحان وتعالی کو تکبر بلکل پسند نہیں ہے۔

کہتے ہیں کہ استاد استاد ہوتا ہے، اور یہ بات بالکل سو فیصد ٹھیک ہے۔ بعض اوقات جب ہم سکول میں شرارت کرتے تھے، تو اکثر کلاس روم میں جب استاد ہمیں پیچھے دیکھ لیتا تو ہم چپ ہو جاتے۔ اور ہم آپ اس میں یہی بات ہے، کہ دے کہ استاد کو پتہ نہیں چلا۔ لیکن ایسا بالکل ہی نہیں، لیکن کبھی کبھار وہ ہمیں ویسی ہی چھوڑ دیتے ایک دن پروفیسر صاحب انتہائی اہم موضوع پر لیکچر دے رہے تھے۔

جیسے ہی آپ نے تختہ سیاہ پر کچھ لکھنے کیلئے رخ پلٹا کسی طالب علم نے سیٹی ماری۔ پروفیسر صاحب نے مڑ کر پوچھا کس نے سیٹی ماری ہے تو کوئی بھی جواب دینے پر آمادہ نہ ہوا آپ نے قلم بند کر کے جیب میں رکھا اور رجسٹر اٹھا کر چلتے ہوئے کہا۔ میرا لیکچر اپنے اختتام کو پہنچا اور بس آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ پھر انہوں نے تھوڑا سا توقف کیا، رجسٹر واپس رکھتے ہوئے کہا۔ پروفیسر صاحب نے کہا کہ چلو آج آپ میں آکو قصہ سناتا ہوں تاکہ پیریڈ کا وقت بھی پورا ہوجائے کہنے لگے رات میں نے سونے کی بڑی کوشش کی مگر نیند کوسوں دور تھی۔ سوچا جا کر کار میں پٹرول ڈلوا آتا ہوں تاکہ اس وقت پیدا ہوئی کچھ یکسانیت ختم ہو، سونے کا موڈ بنے اور میں صبح سویرے پیٹرول ڈلوانے کی اس زحمت سے بھی بچ جاؤں۔ پھر میں نے پیٹرول ڈلوا کر اْسی علاقے میں ہی وقت گزاری کیلئے ادھر اْدھر ڈرائیو شروع کردی۔ کافی مٹرگشت کے بعد گھر واپسی کیلئے کار موڑی تو میری نظر سڑک کے کنارے کھڑی ایک لڑکی پر پڑی۔ نوجوان اور خوبصورت تو تھی مگر ساتھ میں بنی سنوری ہوئی بھی، لگ رہا تھا کسی پارٹی سے واپس آ رہی ہے۔

میں نے کار ساتھ جا کر روکی اور پوچھا، کیا میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ دوں؟ کہنے لگی اگر آپ ایسا کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی۔ مجھے رات کے اس پہر سواری نہیں مل پا رہی۔ لڑکی اگلی سیٹ پر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئی، گفتگو انتہائی مہذب اور سلجھی ہوئی کرتی تھی۔ ہر موضوع پر مکمل عبور اور ملکہ حاصل تھا، گویا علم اور ثقافت کا شاندار امتزاج تھی۔ میں جب اس کے بتائے ہوئے پتے ہر اْس کے گھر پہنچا تو اْس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا۔ کہ اْس نے مجھ جیسا باشعور اور نفیس انسان نہیں دیکھا، اور اْس کے دل میں میرے لیئے پیار پیدا ہو گیا ہے۔ میں نے بھی اْسے صاف صاف بتاتے ہوئے کہا، سچ تو یہ ہے کہ آپ بھی ایک شاہکار خاتوں ہیں، مجھے بھی آپ سے انتہائی پیار ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی میں نے اْسے بتایا کہ میں یونیوسٹی میں پروفیسر ہوں، پی ایچ ڈی ڈاکٹراور معاشرے کا مفید فرد ہوں۔ لڑکی نے میرا ٹیلیفون نمبر مانگا جو میں نے اْسے بلا چوں و چرا دیدیا۔ میری یونیورسٹی کا سْن کر اْس نے خوش ہوتے ہوئے کہا؛ میری آپ سے ایک گزارش ہے۔ میں نے کہا؛ گزارش نہیں، حکم کرو۔ کہنے لگی؛ میرا ایک بھائی آپ کی یونیوسٹی میں پڑھتا ہے آپ سے گزارش ہے کہ اْس کا خیال رکھا کیجیئے۔ میں نے کہا؛ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ اس کا نام بتا دیں۔ کہنے لگی؛ میں اْس کا نام نہیں بتاتی لیکن آپ کو ایک نشانی بتاتی ہوں، آپ اْسے فوراً ہی پہچان جائیں گے۔ میں نے کہا؛ کیا ہے وہ خاص نشانی، جس سے میں اْسے پہچان لوں گا۔ کہنے لگی؛ وہ سیٹیاں مارنا بہت پسند کرتا ہے۔ پروفیسر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ کلاس کے ہر طالب علم کی نظر غیر ارادی طور پر اْس لڑکے کی طرف اْٹھ گئی جس نے سیٹی ماری تھی۔ پروفیسر صاحب نے اْس لڑکے کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا، اْٹھ اوئے جانور، تو کیا سمجھتا ہے میں نے یہ پی ایچ ڈی کی ڈگری گھاس چرا کر لی ہے کیا۔ اور پھر اس کے بعد پروفیسر صاحب نے اسٹوڈنٹ کو خوب سنائیں اور وہ انتہائی شرمندہ ہو گیا اور اس کو کلاس بھی باہر نکال دیا۔

سبحان اللہ ۔۔۔ایک کوا جنگل میں رہتا تھا اور اپنی زندگی سے مطمئن تھالیکن ایک دن اس نے ہنس کو دیکھ لیا اور سوچا ہنس اتنا سفید ہے اور میں اتنا کالا‘یہ ہنس دنیا کا سب سے خوش پرندہ ہوگا‘ کوے نے اپنے خیالات ہنس کو بتائے‘ہنس نے کہا اصل میں مجھے لگتا تھا میں سب سے زیادہ خوش ہوں۔

جب تک میں نے طوطا نہیں دیکھا تھا‘طوطے کے پاس دو مختلف رنگ ہیں‘اب میں سوچتا ہوں طوطا سب سے زیادہ خوش ہوگا‘ کوا طوطے کے پاس پہنچا‘ طوطے نے کوے کو بتایا‘ میں بہت خوش زندگی گزار رہا تھا‘ پھر میں نے مور دیکھا‘ میرے پاس تو صرف دو رنگ ہیں جبکہ مور کے پاس کئی رنگ ہیں۔ کوا مور سے ملنے چڑیا گھر جا پہنچا‘ وہاں کوے نے دیکھا کہ سینکڑوں لوگ مور کو دیکھنے آئے ہوئے ہیں‘لوگوں کے روانہ ہونے کے بعد کوا مور کے قریب گیا‘ کوے نے کہا پیارے مور! تم بہت خوبصورت ہو‘تمہیں دیکھنے روزانہ ہزاروں افراد آتے ہیں‘مجھے لگتا ہے تم دنیا کے سب سے خوش رہنے والے پرندے ہو۔مور نے جواب دیا‘ میں بھی سوچتا تھا میں سب سے خوصورت اور خوش پرندہ ہو لیکن میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے میں چڑیا گھر میں مقید ہوں‘ میں نے چڑیا گھر پر کافی غورکیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ صرف کوا وہ واحد پرندہ ہے جو چڑیا گھر کے کسی پنجرے میں قید نہیں‘ پچھلے کچھ دنوں سے مجھے لگتا ہے اگر میں کوا ہوتا تو آزاد ہوتا۔ ہم انسانوں کا بھی یہی مسئلہ ہے‘ ہم دوسروں سے موازنہ کر کر کے اپنی خوشیاں برباد کر لیتے ہیں‘ہمارے پاس جو ہے ہم اس کی قدر نہیں کرتے اور یہ سوچ ہمیں افسردگی کے چکر میں پھنسا لیتی ہے‘جو آپ کے پاس ہے اس کی قدر کریں‘ موازنے کو خیرباد کہیں‘ یہ مایوسی کی جڑ ہے‘ خود بھی خوش رہیں اور دوسروں میں بھی خوشیاں بانٹیں۔

ایک شخص اکثر ایک بوڑھی عورت سے انار خریدا کرتا تھا، وزن و پیمائش اور قیمت کی ادا ئیگی سے فارغ ہوکر وہ انار کو چاک کرتا اور ایک دانہ اپنے منھ میں ڈال کے شکایت کرتا کہ یہ تو کھٹے ہیں ….اور یہ کہہ کے وہ انار اس بوڑھی عورت کے حوالے کر دیتا…..وہ بزرگ عورت ایک دانہ چکھ کے کہتی “یہ تو با لکل میٹھا ہے” مگر تب تک وہ خریدار اپنا تھیلہ لیکے وہا ں سے جا چکا ہوتا ہے….اس شخص کی زوجہ بھی ہر بار اس کے ساتھ ہی ہوتی تھی ….اسکی بیوی نے پوچھا “جب اس کے انار ہمیشہ میٹھے ہی نکلتے ہیں تو یہ روز کا ڈرامہ کیسا..”اس شخص نے مسکرا کے جواب دیا ” وہ بوڑھی ماں میٹھے انار ہی بیچتی ہیں مگر

غربت کی وجہ سے وہ خود اس کو کھانے سے محروم ہیں …اس ترکیب سے میں ان کو ایک انار بلا کسی قیمت کے کھلانے میں کامیاب ہو جا تا ہوں …بس اتنی سی بات ہے”اس بوڑھی عورت کے سامنے ایک سبزی فروش عورت روزانہ یہ تماشہ دیکھتی تھی …… سو وہ ایک دن پوچھ بیٹھی “یہ آدمی روزانہ تمہارے انار میں نقص نکال دیتا ہے اور تم ہو کہ ہمیشہ ایک زائد انار وزن کرتی ہو…کیا وجہ ہے؟؟؟”یہ سن کے بوڑھی عورت کے لبوں پر مسکراھٹ کھیل گئی اور وہ گویا ہوئی “میں جانتی ہو ں کہ وہ ایسا مجھے ایک انار کھلانے کے لیے کرتا ہے اور وہ یہ سوچ بیٹھا ہے کہ میں اس سے بیگانہ ہوں، میں کبھی زیادہ وزن نہیں کرتی … یہ تو اسکی محبت ہے جو ترازو کے پلے کو بوجھل کر دیتی ہے” .محبت اور احترام کی مسرتیں ان چھوٹے چھوٹهے میٹھے دانو ں میں پنہاں ہیں …. سچ ہے کہ محبت کا صلہ بھی محبت ہے…!!

 

میرے گھر والے میری شادی کر نا چاہتے تھے مجھے اس چیز سے کوئی خاص مطلب نہ تھا گھر والوں نے ایک لڑکی دیکھی اور پسند کی مجھے تصویر دکھائی گئی مجھے تو ایک عام سی لڑکی لگی کوئی خاص چیز تو نظر نہ آئی میں نے کہا آپ لوگوں کو پسند ہے تو ہاں کر دیں۔ منگنی ہو گئی میں نے نہ تو کبھی کال کی اور نہ ہی ان کے گھر کبھی گیا مجھے ان سب چیزوں کی فکر ہی نہ تھی۔

میں اپنی زندگی میں خوش تھا اچھا کما لیتا تھا اپنا کام تھا اوپر فلیٹ میں رہتا تھا باہر سے کھا نا کھاتا اور سو جا تا اور پورا دن نیچے کام پر گزارتاتھا دل کیا تو کبھی گھر بھی چلے جاتے تھے شادی کا دن آ گیا میں نے گھر والوں سے کہا بس نکاح کرو۔

اور کوئی رسم وغیرہ رہنے دو مجھے بس یہی تھا ایک لڑکی کی ذمہ داری اٹھانی ہے کھانے پینے اور جو وہ ضرورت کی چیزیں مانگیں لا دو بس مطلب کہ شادی نہ بھی ہوتی تب بھی گزارا ہو رہا تھا شادی ہو بھی جائے تو فرق تو آنا نہیں تھا شادی ہوئی لڑکی کو گھر لے آئے باقی وہ جو رسم وغیرہ ہوتی ہے یہ تو سب گھر والوں کی ہوتی ہے رخصتی وغیرہ کے بعد میں گھر آ گیا خیر میں نے کہیں پڑ ھا تھا کہ شادی کے دو نفل اد ا کرنے ہوتے ہیں میں وہ بھی اد اکیے اور پھر اسی بہانے عشاء کی نماز بھی پڑ ھ لی تھی ویسے کبھی دل میں آتا تو نماز پڑ ھ لیتا تھا ورنہ کوئی بھی کسی بھی قسم کی روٹین نہیں تھی میری نماز پڑ ھنے کی ۔ نہیں تو نہ سہی اور میں سو گیا۔

جو میری روٹین تھی مجھے نیند آئی اور میں سو گیا نہ ہی مجھے خوشی تھی اور نہ ہی مجھے غم تھا شادی کے اگلے دن اٹھا اور کام پر آ گیا دو دن ایسے ہی گزر گئے۔ بات چیت ہوئی بس اتنی جتنا اس نے پوچھا جواب دے دیا اس سے زیادہ کچھ نہیں اس نے پوچھا کہ آپ شادی سے خوش نہیں میں نے کہا مجھے دکھ بھی نہیں میں لوگوں میں ایڈجسٹ ہونے میں وقت لیتا ہوں بس نا کبھی میں نے اس کی تعلیم پوچھی نہ کچھ اور میں نے کو نسا جاب کروانی تھی ایک دو بار امی کے کہنے پر اسکو گھر چھوڑنے گیا نہ میں نے اس کو پردے کا کہا نہ ہی حجا ب کا اس کو جو اچھا لگے کر لے مطلب کہ اپنا دخل کچھ نہ تھا سوچنے پر تو وہ بھی مجبور تھی کہ بندہ ہے کیا چیز میں سو یا ہو ا تھا۔

میرے پیر کا انگو ٹھا اس نے پکڑا اور کہا کہ اٹھیے اور نماز پڑ ھ لیجئے میں نے اردگرد دیکھا اور میں نے اس کو کچھ نہ کہا میں نے سوچا کہ چلو اب اٹھ ہی گیا ہو ں تو نماز تو پڑھ ہی لینی چاہیے سو میں نے نماز پڑ ھی دورکعت نماز ادا کی اور پھر بستر پر سو گیا اب وہ میرے پاس ہی بیٹھ گئی قرآنِ پاک پڑھنے لگی میں مست ہو کر سو یا ہوا تھا آواز تو آہستہ آہستہ آ رہی تھی۔

کسی بادشاہ نے اپنے ملک کے سب سے بڑے پینٹر کو حکم دیا کہ ایک فرشتہ اور ایک شیطان کی ایسی تصویر بنائیں جو اس کے دور کی سب سے بہترین ہنرمندانہ اثر کے طور پر باقی رہے. پینٹر نے اپنی جستجو کا آغاز کیا۔ وہ اس تلاش میں تھا کہ اسے کوئی ایسا شخص ملے جو واقعی طور پر فرشتہ کہلانے کے لائق ہو، چونکہ اصلی فرشتے کو وہ دیکھنے کے قابل نہیں تھا۔

اسی لئے ایک بہت ہی خوبصورت اور معصوم بچہ کو ڈھونڈنے کے بعد اس کی تصویر بنائی. جب اس خوبصورت تصویر کو بادشاہ کے سامنے کے سامنے پیش کیا تو بادشاہ اور تمام لوگوں نے اس کی خوبصورتی کا اعتراف کیا اور اس کے فن کی داد دی۔اس کے بعد پینٹر نے مختلف شہروں کا سفر کیا تاکہ کسی ایسے بندے کو ڈھونڈ سکے جو ایک حقیقی شیطانی چہرے کا مالک ہو، ملک کے مختلف جیلوں میں موجود مجرموں کو دیکھا لیکن اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملا،

کیونکہ اس کی نظر میں سب اللہ کے بندے تھے اگرچہ انہوں نے بعض غلطیاں بھی کی تھی.۔تلاش کرتے کرتے سالوں گزر گیا لیکن اسے کوئی نہ ملا. چالیس سال بعد جب بادشاہ نے احساس کیا کہ اس کی عمر کے آخری ایام ہیں تو اس نے پینٹر کو بلا کر کہا کہ کسی بھی صورت میں تمہیں جلد از جلد اس تصویر کو بنانا ہی ہوگا تاکہ میری زندگی میں ہی یہ کام سر انجام پائے۔

پینٹر نے دوبارہ اپنی جستجو شروع کی اور آخرکار اسے وہ شخص مل گیا جس کی تصویر بنانی تھی. ایک مست، بد صورت اور کریہہ المنظر مجرم اپنے لمبے لمبے گندے بالوں سمیت کسی مخروبہ میں کھڑا تھا۔ اس کے پاس جاکر درخواست کی کہ ڈھیر سارے پیسوں کے بدلے میں وہ اسے اس بات کی اجازت دے تا کہ وہ بطور شیطان اس کی تصویر بناسکے.۔ اس نے پینٹر کی بات قبول کی.۔تصویر بنانے کے وقت پینٹر نے دیکھا کہ وہ شخص رو رہا ہے. جب علت جاننے کی کوشش کی تو اس نے بتایا :۔ “میں وہی معصوم بچہ ہوں، چالیس سال پہلے جس کی تم نے فرشتہ والی تصویر بنائی تھی!!!۔ میرے اعمال نے مجھے شیطان بنادیا …”۔ اپنے معصومیت کی حفاظت کیجئے…۔ اپنے اعمال سوچ سمجھ کر انجام دے…۔ ۔فرشتہ باقی رہنا یا شیطان بننا ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔

ایک بادشاہ کے سامنے کسی عالم نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ زانی کے عمل کا قرض اس کی اولاد یا اس کے اہل خانہ میں سے کسی نہ کسی کو چکانا پڑتا ہے اس بادشاہ نے سوچا کہ میں اس کا تجربہ کرتاہوں اس کی بیٹی حسن و جمال میں بے مثال تھی اس نے شہزادی کو بلا کر کہا کہ عام سادہ کپڑا پہن کر اکیلی بازار میں جاؤ اپنے چہرے کو کھلا رکھو اور لوگ تمہارے ساتھ جو معاملہ کریں وہ ہوبہو آکر مجھے بتاؤ۔

شہزای نے بازار کا چکر لگا یا مگر جو غیر محرم شخص اس کی طرف دیکھتا وہ شرم و حیا سے نگاہیں جھکا لیتا ،کسی مرد نے اس شہزادی کے حسن و جمال کی طرف دھیان ہی نہیں دیا سارے شہر کا چکر لگا کر جب شہزادی اپنے محل میں داخل ہو نے لگی تو راہداری میں کسی ملازم نے محل کی خادمہ سمجھ کر روکا ،گلے لگا یا، بوسہ لیا اور بھاگ گیا ۔

شہزادی نے بادشاہ کو سارا قصہ سنایا تو بادشاہ روپڑا اور کہنے لگا کہ میں نے ساری زندگی غیر محرم سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کی ہے البتہ ایک مرتبہ میں غلطی کر بیٹھا اور ایک غیر محرم لڑکی کو گلے لگا کر اس کا بوسہ لیا تھا میرے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو میں نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا۔

ہمیں اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہماری کوتاہی کا بدلہ ہمارا اولادیں چکاتی پھریں جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی عورتیں پاکدامن بن کر رہیں اسے چاہئے کہ وہ غیر محرم عورتوں سے بے طمع ہوجائے اسی طرح جو عورتیں چاہتی ہیں

کہ ہمارے خاوند نیکو کاری کی زندگی گزاریں ،بے حیائی والے کاموں کو چھوڑ دیں انہیں چاہئے کہ وہ غیر محرم مردوں کی طرف نظر اٹھا نا بھی چھوڑ دیں تا کہ “پاکدامنی کا بدلہ پاکدامنی” کی صورت میں مل جائ

 

ایک نیک آدمی شادی کے بعد بیوی کو لے کر اپنے گھر لوٹ رھا تھا۔ راستے میں دریا عبور کرنا پڑتا تھا۔ آدمی نے ایک کشتی کا انتظام کیا اور وہ دونوں دریا عبور کرنے لگے۔ کشتی بیچ دریا پہنچی ہی تھی کی دریا میں طوفان آ گیا۔

اس صورتحال میں بیوی کا خوف سے برا حال ھو گیا لیکن آدمی ایسے اطمینان سے بیٹھا رھا جیسے کچھ غیرمعمولی نہیں ہو رہا۔ یہ دیکھ کر بیوی کو حیرت ہوئی وہ غصے سے چلا اٹھی۔ آپکو نظر نہیں آ رہا۔ طوفان کشتی کو ڈبونے لگا ہے۔ ہماری موت سر پر ہے اور آپ اطمینان سے بیٹھے ہیں۔ یہ سنتے ہی خاوند نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور بیوی کی شہ رگ پر رکھ دی۔ بیوی ہنس پڑی اور بولی یہ کیسا مذاق ہے؟ خاوند نے پوچھا کیا آپ ابھی موت سے خوفزدہ نہیں ہو رہی۔

کیا آپ کو نہیں لگ رہا کہ میں آپکا گلا کاٹ دوں گا۔ یہ سن کر بیوی بولی مجھے آپ پر اور آپکی محبت پر اعتماد ہے۔ مجھے پتا ہے آپ مجھ سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور یہ تلوار آپ کے ہاتھ میں ہے تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہ سن کر خاوند بولا جیسے آپکو میری محبت پر اعتماد ویسے ہی مجھے اللہ کی محبت پر یقین ہے اور یہ طوفان بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے تو اسے روک لے چاہے تو ہماری کشتی ڈبو کر بھی ہمیں بچا لے۔ یاد رکھو اللہ جو بھی فیصلہ کرے وہ ہمارے حق میں بہترین ہوتا ہے۔

 

گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں کا کیا بھائو لگایا ہے؟

دکاندار نے جواب دیا: کیلے 12 درہم اور سیب 10 درہم۔اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک درجن کیلے چاہئیں، کیا بھائو ہے؟

دکاندار نے کہا: کیلے 3 درہم اور سیب 2 درہم۔ عورت نے الحمد للہ پڑھا۔

دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضبناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا، اس سے پہلے کہ کچھ اول فول کہتا: دکاندار نے گاہک کو آنکھ مارتے ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔

عورت خریداری کر کے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑبڑائی: اللہ تیرا شکر ہے، میرے بچے انہیں کھا کر بہت خوش ہونگے۔عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے پہلے سے موجود گاہک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا:

اللہ گواہ ہے، میں نے تجھے کوئی نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔

یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔

میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بار ناکامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کو چیز دیدوں۔

میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے لگے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔

میں یہ تجارت اللہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔

دکاندار کہنے لگا: یہ عورت ہفتے میں ایک بار آتی ہے۔ اللہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے‘ اس دن میری بکری بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے غیبی خزانے سے منافع دو چند ہوتا ہے۔

گاہک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ اس نے بڑھ کر دکاندار کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جو لذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو۔

 

دو مریض اسپتال کے بستروں پر لیٹے ہوئے تھے، ایک شخص بیٹھنے کے قابل تھا، اس کابستر کمرے میں موجود کھڑکی کے پاس تھا۔ جب کہ دوسرا شخص پورا دن اپنے بستر پر لیٹ کر گزارتا تھا، کھڑکی والا شخص بیٹھ کر اپنے پڑوسی کو سب بتاتا جو اسے کھڑ کی سے نظر آتا تھا۔

دوسرا شخص وہ سب سننے کا انتظار کیاکرتا تھا، کھڑکی سے ایک باغ نظرآتا تھا، جس میں خوبصورت نہر بھی تھی۔ اس نہر میں بچے کھلونا کشتیاں چلاتے تھے، منظر بہت دلفریب تھا کھڑکی کے نزدیک والا برابر لیٹے ہوئے شخص کو تمام تفصیلات بتاتا اور لیٹا ہوا شخص تصور کی دنیا میں کھوجاتا تھا۔

ایک دن نرس کمرے میں داخل ہوئی اور کھڑکی والے شخص کو مردہ پایا۔ دوسرے شخص نے اپنا بستر کھڑکی کے پاس لگانے کی فرمائش کی، نرس نے ایسا ہی کیا اور کمرے سے چلی گئی اس شخص نے کہنیوں کے بل بمشکل اٹھنے کی کوشش کی تاکہ کھڑکی سے جھانک سکے۔

لیکن اسے صرف دیوار نظر آئی اس شخص نے نرس کو بلایا، اور پوچھا کہ یہاں موجود مریض وہ سب کیسے دیکھ لیتا تھا۔ جو وہ مجھے بتایا کرتا تھا؟ نرس نے بتایا وہ شخص نابینا تھا، اور یہ دیوار تک دیکھنے کے قابل نہیں تھا، وہ شاید دوسرے مریض میں زندگی کی لہر دوڑانا چاہتا تھا، اسے خوشی دینا چاہتا تھا۔

اپنی تکلیف بھول کر دوسروں کو خوشی دینے سے بڑھ کر دوسری کوئی خوشی نہیں خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ آپ بھی دنیا میں تھوڑی سی خوشی کی وجہ بن کر اس دنیا کو مزید بہتر بنائیں جزاک اللہ۔

Copyright 2020 | Anzik Writers