پرانے زمانے کی بات ہے ۔کہ ایک بادشاہ سلامت نے رات کو گیدڑوں کی آوازیں سنی تو صبح وزیروں سے پو چھا کہ رات کو یہ گیدڑ بہت شور کررہے تھے ۔کیا وجہ ہے۔ اس وقت کے وزیر عقل مند ہوتے تھے ۔انھوں نے کہا جناب کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہوگی اس لیے فریاد کررہےہیں ۔تو حاکم وقت نے آرڈر دیا کہ ان کا بندوبست کیا جائے ۔

وزیر صاحب نے کچھ مال گھر بھجوادیا اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیا۔اگلی رات کو پھر وہیں آوازیں آئیں ۔ تو صبح بادشاہ نے وزیر سے فرمایا کہ کل آپ نے سامان نہیں بھجوایا کیا؟ تو وزیر نے فوری جواب دیا کہ جی بادشاہ سلامت بھجوایا تو تھا ۔اس پر بادشاہ نے فرمایا کہ پھر شور کیوں ؟؟؟

تو وزیر نے کہا جناب سردی کی وجہ سے شور کررہےہیں ۔ تو بادشاہ نے آرڈر جاری کیا کہ بستروں کا انتظام کیا جائے۔صبح پھر موجیں لگ گئیں وزیر کی ۔حسب عادت کچھ بستریں گھر بھیج دیئے اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کیے۔جب پھر رات آئی تو بدستورآوازیں آنا شروع ہوگئیں ۔

تو بادشاہ کو غصہ آیا اور اسی وقت وزیر کو طلب کیا کہ کیا بستروں کا انتظام نہیں کیا گیا تھا ؟ تو وزیر نے کہا کہ جناب وہ سب کچھ ہوگیا ہے تو بادشاہ نے فرمایا کہ پھر یہ شور کیوں تو وزیر نے اب بادشاہ کو تو مطمئین کرنا ہی تھا ۔اور اوکے رپورٹ بھی دینی تھی۔تو وہ باہر گیا کہ پتہ کرکے آتا ہوں ۔جب واپس آئے تو مسکراہٹ لبوں پر سجائے آداب عرض کیا کہ بادشاہ سلامت یہ شور نہیں کررہے بلکہ آپ کا شکریہ ادا کررہے ہیں ۔ اور روزانہ کرتے رہیں گے ۔

بادشاہ یہ سن کے خوش ہوا اور وزیر کو انعام سے بھی نوازا۔ اب یہ حال ہمارے وزیراعظم صاحب کا بھی ہے ۔عوام مہنگائی سے پریشان ہیں ۔مگر یہاں رپورٹ سب اوکے دی جارہی ہے ۔ اور بادشاہ سلامت خوش ہیں ۔ کہ اگلے پانچ سال کی بھی خوشخبریاں پیش خدمت کی جارہی ہیں ۔,

 

مجھے کسی صاحب نے ایک دلچسپواقعہ سنایا‘ وہ ترکی کے راستے یونان جانا چاہتے تھے‘ ایجنٹ انہیں ترکی لے گیا‘ یہ ازمیر شہر میں دوسرے لوگوں کے ساتھ برفباری کا انتظار کرنے لگے‘ سردیاں یورپ میں داخلے کا بہترین وقت ہوتا تھا‘ برف کی وجہ سے سیکورٹی اہلکار مورچوں میں دبک جاتے تھے‘ بارڈر پرگشت رک جاتا تھا‘ ایجنٹ لوگوں کو کشتیوں میں سوار کرتے تھے اور انہیں یونان کے کسی ساحل پر اتار دیتے تھے‘ یہ ایجنٹوں کی عام پریکٹس تھی‘ اس صاحب نے بتایا ”ہم ترکی میں ایجنٹ کے ڈیرے پر پڑے تھے‘ ہمارے ساتھ گوجرانوالہ کا ایک گندہ سا لڑکا تھا‘ وہ نہاتا بھی نہیں تھا اور دانت بھی صاف نہیں کرتا تھا ‘ اس سےخوفناک بو آتی تھی‘ تمام لوگ اس سے پرہیز کرتے تھے‘ ہم لوگ دسمبر میں کشتی میں سوار ہوئے‘ ہم میں سے کوئی میں سے کوئی شخص اس لڑکے کو ساتھ نہیں لے جانا چاہتا تھا‘ ہم نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ رونا شروع ہو گیا‘ ایجنٹ کے پاس وقت کم تھا چنانچہ اس نے اسے ٹھڈا مار کر کشتی میں پھینک دیا‘ کشتی جبیونان کی حدود میں داخل ہوئی تو کوسٹ گارڈ ایکٹو تھے‘ یونان کو شاید ہماری کشتی کی مخبری ہو گئی تھی‘ ایجنٹ نے مختلف راستوں سے یونان میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ہر راستے پر کوسٹ گارڈ تھے‘ اس دوران اس لڑکے کی طبیعت خراب ہو گئی‘ وہ الٹیاں کرنے لگا‘ہم نے ایجنٹ سے احتجاج شروع کر دیا‘ ایجنٹ ٹینشن میں تھا‘ اسے غصہ آ گیا‘ اس نے دو لڑکوں کی مدد لی اور اسے اٹھا کر یخ پانی میں پھینک دیا‘ وہ بے۔جاری ہے ۔چارہ ڈبکیاں کھانے لگا‘ ہم آگے نکل گئے‘ ہم ابھی آدھ کلو میٹر آگے گئے تھے کہ ہم پر فائرنگ شروع ہو گئی‘ ایجنٹ نے کشتی موڑنے کی کوشش کی‘ کشتی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور وہ پانی میں الٹ گئی‘ ہم سب پانی میں ڈبکیاں کھانے لگے‘

میں نے خود کو سردی‘ پانی اور خوف کے حوالے کر دیا‘ میری آنکھ کھلی تو میں ہسپتال میں تھا‘ مجھے عملے نے بتایا کشتی میں سوار تمام لوگ مر چکے ہیں‘ صرف دو لوگ بچے ہیں‘میں نے دوسرے شخص کے بارے میں پوچھا‘ ڈاکٹر نے میرے بیڈ کا پردہ ہٹا دیا‘ دوسرے بیڈ پر وہی لڑکا لیٹا تھا جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے سمندر میں پھینکا تھا‘ سمندر کی لہریں اسے دھکیل کر ساحل تک لے آئی تھیں‘ مجھے کوسٹ گارڈز نے بچا لیا تھا جبکہ باقی لوگ گولیوں کا نشانہ بن گئے یا پھر سردی سے ٹھٹھر کر مر چکے تھے‘ میں پندرہ دن ہسپتال رہا‘ میں اس دوران یہ سوچتا رہا ”میں کیوں بچ گیا“ مجھے کوئی جوابنہیں سوجھتا تھا‘ میں جب ہسپتال سے ڈسچارج ہو رہا تھا‘مجھے اس وقت یاد آیا میں نے اس لڑکے کو لائف جیکٹ پہنائی تھی‘ ایجنٹ جب اسے پانی میں پھینکنے کےلئے آ رہا تھا تو میں نے فوراً باکس سے جیکٹ نکال کر اسے پہنا دی تھی‘ یہ وہ نیکی تھی جس نے مجھے بچا لیا‘ مجھے جوں ہی یہ نیکی یاد آئی‘ مجھے چھ ماہ کا وہ سارا زمانہ یاد آ گیا‘ جو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ گزارہ تھا‘ ہم نہ صرف ترکی میں اس کی وجہ سے بچتے رہے تھے بلکہ وہ جب تک ہماری کشتی میں موجود رہا ہم کوسٹ گارڈز سے بھی محفوظ رہے۔یخ پانیسے بھی اور موت سے بھی‘ ہم نے جوں ہی اسے کشتی سے دھکا دیا موت نے ہم پر اٹیک کر دیا‘ میں نے پولیس سے درخواست کی ”میں اپنے ساتھی سے ملنا چاہتا ہوں“ پولیس اہلکاروں نے بتایا ”وہ پولیس وین میں تمہارا انتظار کر رہا ہے“ میں گاڑی میں سوار ہوا اور جاتے ہی اسے گلے سے لگا لیا‘ مجھے اس وقت اس کے جسم سے کسی قسم کی کوئی بو نہیں آ رہی تھی‘ مجھے معلوم ہوا میرے ساتھیوں کو اس کے جسم سے اپنی موت کی بو آتی تھی‘ یہ ان لوگوں کی موت تھی جو انہیں اس سے الگ کرنا چاہتی تھی اور وہ جوں ہی الگ ہوئے سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔

خراسان کا بادشاہ شکار کھیل کرواپس آنے کے بعد تخت پر بیٹھا تھا۔ تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھیں بوجھل ہو رہی تھیں۔ بادشاہ کے پاس ایک غلام ہاتھ باندھے مودب انداز میں کھڑا تھا۔بادشاہ کو سخت نیند آرہی تھی، مگر جب بھی اس کی آنکھیں بند ہوتیں تو ایک مکھی آ کر اس کی ناک پر بیٹھ جاتی تھی اور نیند اور بے خیالی کی وجہ سے بادشاہ غصے سے مکھی کو مارنے کی کوشش کرتا۔ لیکن اس کا ہاتھ اپنے ہی چہرے پر پڑتا تھا اور وہ ہڑبڑا کر جاگ جاتا تھ

ا۔جب دو تین دفعہ ایسا ہواتو بادشاہ نے غلام سے پوچھا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ نے مکھی کو کیوں پیدا کیا ہے اور اس کی پیدائش میں اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے؟غلام نے بادشاہ کا یہ سوال سنا تو اس نے ایسا جواب دیا جو سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔غلام نے کہا بادشاہ سلامت! اللہ نے مکھی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ بادشاہوں اور سلطانوں کو یہ احساس ہوتا رہے کہ بعض اوقات ان کا زور ایک مکھی پر نہیں چلتا۔کہتے ہیں کہ بادشاہ کو اس غلام کی بات اتنی بھائی کہ اس نے اسے آزاد کر کے اپنا مشیر مقرر کر دیا۔

خاندان بڑا تھا لیکن روٹی بہرحال ماں ہی کو پکانی پڑتی تھی‘ وہ بیچاری سارا دن گھر کا کام کرتی‘ شام ہوتی تو وہ پورے خاندان کا کھانا بناتی‘ خاندان چولہے کے گرد جمع ہو جاتا‘ ماں توے سے تازہ روٹیاں اتارتی جاتی اور وہ کھاتے جاتے‘ ایک دن ماں کا دھیان بھٹک گیا‘ روٹی توے پر پڑی پڑی جل گئی‘ ماں نے وہ روٹی اتار کر اپنے لئے رکھ لی‘ خاوند دیکھ رہا تھا‘ اس نے فوراً کہا ”یہ روٹی مجھے دے دو“ ماں نے گھبرا کر جواب دیا ”یہ جل گئی ہے‘ میں آپ کےلئے اور پکا رہی

ہوں“ خاوند نے مسکرا کر کہا ”مجھے دے دو‘ مجھے جلی ہوئی روٹیاں بہت پسند ہیں“ اور ساتھ ہی ہاتھ آگے بڑھا کر ٹوکری سے روٹی اٹھا لی اور مزے سے کھانے لگا‘ کھاختم ہوا‘ خاندان اٹھ کر اپنی اپنی چار پائیوں پر چلا گیا‘ خاندان کا چھوٹا بیٹا ہمیشہ سونے سے پہلے باپ کا ماتھا چومتا تھا‘ وہ ماتھا چومنے کےلئے والد کی چارپائی پر گیا تو اس نے سرگوشی میں باپ سے پوچھا ”ابا کیا آپ کو واقعی جلی ہوئی روٹی پسند ہے“ والد نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور آہستہ آواز میں جواب دیا ”بیٹا جلی ہوئی روٹی کس کو پسند ہو گی“ بیٹے نے پوچھا ” پھر آپ نے ماں سے جھوٹ کیوں بولا“ باپ نے جواب دیا ” بیٹا تمہاری ماں سارا دن کام کرتی ہے‘ یہ ہمیں روز اچھا اور مزے دار کھانا بھی پکا کر کھلاتی ہے‘ میں نے زندگی میں اس کے ہاتھوں سے پکی ہوئی سینکڑوں روٹیاں کھائیں‘

میں نے اگر ایک دن جلی ہوئی روٹی کھا لی تو کیا قیامت آ گئی“ باپ نے کہا ”یہ روٹی میں نہ کھاتا تو تمہاری ماں کھاتی اور یہ مجھے منظور نہیں تھا“ یہ واقعہ بچپن کی سنہری یاد بن گیا‘ وہ زندگی میں جہاں بھی رہا‘ وہ جس عہدے پر بھی پہنچا‘ اسے جو بھی پیش کیا گیا اس نے چپ چاپ کھا لیا‘ اس نے کبھی کھانے میں نقص نہیں نکالا اور ہاں وہ جب بھی کھانے کی میز پر بیٹھا‘ اس کے سامنے کھانا رکھا گیا تو اسے اپنی ماں اور باپ دونوں ضرور یاد آئے اور اس نے والد کے یہ الفاظ بھی ضرور دہرائے۔یہ کون تھا؟ یہ بھارت کے مرحوم صدر عبدالکلام تھے‘ عبدالکلام 27 جولائی کو شیلانگ میں انتقال کر گئے‘ ان کی عمر 84 سال تھی‘یہ بھارت کے ان چند لوگوں میں شامل ہیں جن کے انتقال پر ملک بھر میں سات روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا‘ یہ حقیقتاً اس اعزاز کے حق دار تھے‘

یہ 1931ءمیں بھارت کے ایک جزیرے میں پیدا ہوئے‘ جزیرے کا نام ”رامش ورام“ ہے‘ یہ جزیرہ تامل ناڈو میں سری لنکا کے قریب واقع ہے اور یہ سری لنکا کی طرف بھارت کا آخری ٹاﺅن ہے‘ عبدالکلام ”رامش ورام“ کے غریب ترین مسلمانوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘ والد کا کل اثاثہ ایککشتی تھی‘ وہ یہ کشتی یاتریوں کو کرائے پر دے دیتے تھے‘ کشتی کا کرایہ خاندان کا نان نفقہ تھا‘ عبدالکلام کے بڑے بھائی نے بچپن میں پرچون کی دکان بنا لی‘ عبدالکلام کا بچپن اور جوانی عسرت میں گزری‘ وہ تین چار سال کی عمر میں املی کے بیج اکٹھے کرتے تھے‘ سارے دن کی محنت کے بعد انہیں ایک آنہ ملتا تھا‘ وہ بھائی کی دکان پر بھی بیٹھتے تھے اور لوگوں کے گھروں میں اخبار بھی پھینکتے تھے‘ وہ اناج منڈی میں بھی کام کرتے رہے‘وہ کام کے ساتھ ساتھ پڑھائی کرتے تھے‘ لائق تھے

چنانچہ بچپن ہی میں وظیفے ملنے لگے۔ ”رامش ورام“ میں ہندوﺅں کی اکثریت تھی‘ سکول میں بھی مسلمان طالب علم کم تھے‘ اساتذہ مسلمان طالب علموں پر سختی کر کے انہیں سکول سے بھگا دیتے تھے‘ وہ بھی استادوں کے اس ناروا سلوک کا نشانہ بنتے رہتے تھے لیکن ثابت قدمی اور اللہ کی مدد دونوں ان کے شامل حال تھی چنانچہ گاﺅں کے مکھیا کو یہ اطلاع ملی تو اس نے اساتذہ کو ڈانٹ دیااور یوں استادوں نے انہیں بھی انسان سمجھنا شروع کر دیا‘ وہ ریاضی میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے‘ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلہ ہوا‘ فیس ہزار روپے تھی لیکن گھر میں اتنی بڑی رقم نہیں تھی‘ عبدالکلام نے اعلیٰ تعلیم کا خیال چھوڑ دیا لیکن پھر ان کی بڑی بہن فرشتہ بن کر آئی‘

اس نے اپنی طلائی چوڑیاں بیچ کر بھائی کی فیس ادا کر دی یوں یہ یونیورسٹی پہنچ گئے لیکن وہاں فیس معافی کےلئےپوزیشن لینا ضروری تھی‘ عبدالکلام اس کے بعد صرف فیس معاف کرانے کےلئے پوزیشنیں لیتے رہے‘ یہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھارت کے ایٹمی پروگرام سے وابستہ ہو گئے‘ عبدالکلام نے 1974ءمیں بھارت کو ایٹمی طاقت بھی بنایا اور یہ بھارت میں میزائل پروگرام کی بنیاد رکھ کر ”میزائل مین“ بھی کہلائے‘ یہ 2000ءتک مختلف پوزیشنوں پر کام کرتے رہے یہاں تک کہ 2002ءمیں کانگریس اور بی جے پی نے انہیں بھارت کا صدر بنادیا‘ یہ 2007ءتک بھارتی صدر رہے۔عبدالکلام کمال انسان تھے‘ یہ وقت کے انتہائی پابند تھے‘ صبح ساڑھے چھ سے سات بجے کے درمیان کام شروع کرتے تھے‘ ٹی وی نہیں دیکھتے تھے‘

ان کے گھر میں ٹی وی نہیں تھا‘ اپنی تمام ای میلز چیک کرتے تھے اور جواب بھی دیتے تھے‘ پوری زندگی کام کیا‘ ان کا انتقال بھی شیلانگ میں لیکچر کے دوران ہوا‘ وہ لیکچر دے رہے تھے‘ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا‘ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ ’فنی گائے‘یو آر ڈوئنگ ویل‘کہتے کہتے دنیا سے رخصت ہو گئے‘ یہ ذاتی زندگی میں انتہائی سادہ‘ ایماندار اور منکسرالمزاج تھے‘ وہ ایوان صدر میں تین بکسے لے کر آئے اور یہ تین بکسے ہی ان کے ساتھ واپس گئے‘ بھارت کے پہلے مسلمان صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کے دور سے ایوان صدر میں رمضان میں افطار ڈنر دیا جاتا تھا‘ ڈاکٹر عبدالکلام صدر بنے‘ ان کی صدارت کا پہلا رمضان آیا‘ مہمانوں کی فہرست دیکھی‘ سٹاف کو بلایا اور کہا ” یہ تمام لوگخوش حال ہیں‘ افطاری ان کا ایشو نہیں‘ ہم کیوں نہ یہ رقم یتیم خانوں میں تقسیم کر دیں“

سٹاف نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا‘ صدر نے پوچھا ”افطار ڈنر پر کتنی رقم خرچ ہوتی ہے“ جواب ملا ” اڑھائی لاکھ روپے“ ڈاکٹر عبدالکلام نے اڑھائی لاکھ روپے منگوائے‘ ایک لاکھ روپے ذاتی جیب سے ڈالے‘ ساڑھے تین لاکھ روپے کا آٹا‘ دالیں‘ کمبل اور سویٹر منگوائے اور یہ سامان دہلی کے 28 یتیم خانوں میں تقسیم کرا دیا‘ وہ جب تک صدر رہے‘وہ افطار ڈنر کی رقم اسی طرح یتیم خانوں میں تقسیم کراتے رہے‘ڈاکٹر عبدالکلام نے مئی 2006ءمیں اپنے پورے خاندان کو ایوان صدر بلایا‘ خاندان کے 52 افراد ان کی دعوت پر دہلی آئے‘ ان میں ان کے90 سال کے بڑے بھائی شامل تھے اور ڈیڑھ سال کی پوتی بھی‘ یہ لوگ آٹھ دن ایوان صدر میں رہے‘ صدر نے انہیں اجمیر شریف بھی بھجوایا‘ یہ لوگ واپس چلے گئے تو صدر عبدالکلام نے اپنے خاندان کی رہائش‘ خوراک اور ٹرانسپورٹ کا بلمنگوایا‘ یہ تین لاکھ 52 ہزار روپے بنتے تھے‘ صدر نے ذاتی اکاﺅنٹ سے یہ رقم ادا کر دی‘ انہوں نے چائے کے ایک ایک کپ کے پیسے ادا کئے‘ خاندان اجمیر شریف گیا تھا‘

اس ”زیارت“ کےلئے بھی کوئی سرکاری گاڑی استعمال نہیں ہوئی‘ صدر نے پرائیویٹ بس کا انتظام کیا اور خاندان کو اس بس پر اجمیر شریف بھجوایا‘ صدر نے پانچ برسوں میں صدر کی حیثیت سے 176 دورے کئے لیکن ان دوروں میں غیر ملکی دورے صرف سات تھے‘باقی 169 دورے اندرون ملک تھے‘ وہ صدر کی حیثیت سے ملک کی ہر ریاست‘ ہر بڑے شہر اور ہر کمیونٹی کے پاس گئے اور ان سے ملاقات کی‘ وہ ہر ہفتے دو تین سیمیناروں میں بھی شریک ہوتے تھے اور وہاں لیکچر دیتے تھے‘ سادگی کا یہ عالم تھا‘ بھارت کے تقریباً تمام اخبارات‘ صحافیوں اور ٹیلی ویژن اینکرز نے ان کی موت پر یہ واقعہ ضرور بیان کیا‘ وہ بطور صدر کسی تقریب کی صدارت کر رہے تھے‘ عبدالکلام نے صدارتی خطبہ دے دیا‘تقریب ختم ہو گئی‘ وہ رخصت ہونے لگے تو کسی صحافی نے ان سے سوال پوچھ لیا‘وہ اس وقت تک سٹیج سے اتر چکے تھے لیکن وہ واپس مڑے اور سٹیج کے ایک کونے میں زمین پر بیٹھ گئے‘

ہال میں بیٹھے لوگ فوراً کھڑے ہو گئے لیکن عبدالکلام نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھے بیٹھے صحافی کی بات کا جواب دیا‘ یہ ان کی ذات میں چھپی ہوئی سادگی تھی‘ وہ اس سادگی کا مظاہرہ کرتے وقت پروٹوکول بھی فراموش کر دیاکرتے تھے‘ وہ کس قدر بڑے انسان تھے ¾ آپ اس کا اندازہ ان کے دورہ امریکا سے لگا لیجئے‘ یہ 2011ءمیں امریکا کے دورے پر گئے‘ یہ نیویارک ائیرپورٹ پہنچے تو یہ اپنے لباس‘ انداز اور نشست و برخاست‘ کسی زاویئے سے وی وی آئی پی نہیں لگتے تھے چنانچہ سیکورٹی حکام نے انہیں تلاشی کےلئے روک لیا‘ ڈاکٹر عبدالکلام نے پیشانی پر شکن ڈالے بغیر تلاشی دے دی‘ کلیئر ہوئے اور آرام سے باہر آ گئے‘ امریکی حکام کو اسواقعے کا علم ہوا تو امریکا نے اس رویئے پر بھارت سے تحریری معافی مانگی‘ یہ سلوک دنیا کے بے شمار حکمرانوں کے ساتھ ہو چکا ہے‘ ہمارے اپنے وزراءاور عسکری حکام امریکی ائیرپورٹس پر اس سلوک کا شکار ہو چکے ہیں لیکن امریکا نے معافی صرف عبدالکلام سے مانگی‘

یہ اعزاز بھی صرف انہی کو حاصل ہوا۔دنیا میں بے شمار سیلف میڈ لوگ حکمران بنتے ہیں‘ دنیا میں ڈاکٹر عبدالکلام جیسے لوگ بھی بے شمار ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیںجنہوں نے انتہائی غربت میں آنکھ کھولی اور کھردری زمین پر گھٹنوں کے بل چل چل کر کامیابی کے آخری زینے تک پہنچے‘ دنیا میں کامیابی انوکھی بات‘ انوکھی چیز نہیں لیکن کامیابی کے بعد اور ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ کر اپنی سادگی‘ اپنی ایمانداری اور اپنی عاجزی کو قائم رکھنا کمال ہوتا ہے اور ڈاکٹر عبدالکلام کا یہ کمال‘ کمال قسم کا کمال تھا‘ آپ نے درویشوں کو بادشاہ بنتے اور بادشاہوں کو درویش بنتے دیکھا ہو گا لیکن آپ نے کسیدرویش کو تخت پر بیٹھ کر اپنی درویشی سنبھالتے نہیں دیکھا ہو گا لیکن ڈاکٹر عبدالکلام‘ ایک معمولی کشتی بان کے صاحبزادے ڈاکٹر عبدالکلام نے یہ کمال کیا‘ یہ تخت کے سامنے کھڑے ہو کر بھی درویش تھے اور یہ تخت پر بیٹھ کر بھی درویش رہے‘

یہ پانی پر چلتی کشتی کی طرح اقتدار کا سفر پورا کر کے دنیا سے چپ چاپ چلے گئے‘ آپ ڈاکٹر عبدالکلام کی یہ ساری داستان پڑھیں اور اس کے بعد اس سوال کا جواب دیں”کیا بیس کروڑ لوگوں کے اس ملک میں ڈاکٹر عبدالکلام جیسا کوئی ایک شخص موجود ہے‘ کوئی ایک شخص! ہم جس کی سادگی‘ ایمانداری اور درویشی کی قسم بھی کھا سکیں اور ہم جس کے انتقال پر سات روزہ سوگ بھی منا سکیں‘ کوئی ایک! ہاں کوئی ایک ایسا شخص جو بھرپور زندگی گزارنے کے بعد یہ کہتا ہوا اطمینان سے چلا جائے‘ فنی گائے‘ یو آر ڈوئنگ ویل۔

 

شادی کی ایک تقریب بڑے دھوم دھام سے جاری تھی دلہا دلہن بری شان و شوکت کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے تھےـ

دلہن نے دلہا کے کان میں کہا : اپنی ماں کو اسٹیج سے اتار دو ، کیوں کہ میں اسے ناپسند کرتی ہوں ، دلہا نے مائک اٹھایا اور تین دفعہ اعلان کیاـ

مجھ سے میری ماں کون خریدے دے گا ۔حاضرین پر سناٹا طاری ہوگیا پھر دلہا بولا میں اپنی ماں کو خود ہی خریدوں گا اس نے شادی کی انگوٹھی اتار کر پھینک دی

اور دلہن کو طلاق دے دی اور اپنی اماں کے قدموں میں بوسہ دیتے ہوئے کہا میں نے فائدے کا سودا کیا ہے ۔حاضرین میں سے ایک آدمی نے اسی وقت کھڑے ہو کر اعلان کیا میں اس نوجوان کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کرتا ہوں اور کہا اس سے بہتر میری بیٹی کو خاوند نہیں مل سکتاـ

یہ کر کے اس نوجوان نے دنیا بھی کما لی اور اپنی جنت یعنی ماں بھی۔ دنیا میں مجھے جو بھی ملا جتنا بھی ملا ہے سب کچھ میری ماں کی دعاؤں کا صلہ ہے۔

 

اب میرا کام ہو جائے گا نا؟اس نے دیوار کی طرف رخ موڑا اور تیزی سے کپڑے پہننے لگی۔ ہاں ہاں بھئی ہو جائے گا۔ میری سانسیں ابھی بھی بے ترتیب تھیں۔ پھر میں پیسے لینے کب آؤں؟ دوپٹے سے اس نے منہ پونچھا اورپھر جھٹک کر لپیٹ لیا۔پیسے ملنے تک تو تمہیں ایک دو چکر اور لگانے پڑیں گے۔ کل ہی میں مالکان سے تمہارے شوہر کا ذکر کرتا ہوں۔میں نے شرٹ کے بٹن لگائے۔

ہاتھوں سے بال سنوارے اور دفتر کے پیچھے ریٹائرنگ روم سے باہر احتیاط کے طور پہ ایک طائرانہ نظر دوڑانے لگا۔ویسے تو دفتر کا چوکیدار مجھ سے چائے پانی کے پیسے لے کر میرا خیر خواہ ہی تھا لیکن میں کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔پھر میں کل ہی آ جاؤں؟ وہ میرے پختہ جواب کی منتظر تھی۔نہیں کل نہیں!!! میں اس روز یہاں آ نے کا رسک نہیں لے سکتا تھا اس لئے بس آہ بھر کر رہ گیا۔ہائے غریبوں کو بھی کیسے کیسے لعل مل جاتے ہیں ۔ میں نظروں سے اس کے جسم کے پیچ و خم کو تولنے لگا۔ ارے سنو!! تم نے شلوار الٹی پہنی ہے۔وہ چونک کر اپنی ٹانگوں کی طرف جھکی اور خجل ہو گئی۔ اسے اتار کر سیدھی پہن لو۔ میں چلتا ہوں میرے پانچ منٹ بعد تم بھی پچھلے دروازے سے نکل جانا۔ اور ہاں! احتیاط سے جانا کوئی دیکھ نہ لے تمہیں یہاں۔زیمل خان چار سال سے ہماری فیکٹری میں رات کا چوکیدار تھا۔ دو مہینے پہلے ڈاکوؤں کے ساتھ مزاحمت کے دوران اسے ٹانگ پر گولی لگی اور اب بستر پر لاچار پڑا تھا۔ فیکٹری کے مالکان اس کی امداد کے لئے پچاس ہزار روپے دینے کا اعلان کر کے بھول چکے تھے۔ اس کی بیوی اسی سلسلے میں بار بار چکر لگا رہی تھی۔ میں نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور چھٹی کے بعد شام کو اسے فیکٹری آنے کا اشارہ دیا۔

!عمر! عمراپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے عقب سے مجھے اپنی بیوی کی آواز سنائی دی۔ اس کے اور میرے گھر آنے کا وقت ایک ہی تھا۔ وہ ایک چھوٹے بینک میں کلرک تھی۔ایک خوشخبری ہے عمروہ تیزی سے اوپر آ رہی تھی۔ خوشی سے اسکی باچھیں کھل رہی تھیں۔منیجر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں اور آج ہی انہوں نے میرے پروموشن کی بات کی ہے۔ دروازے کے سامنے اس نے ہینڈ بیگ ٹٹولا اور چابی نکال انہوں نے کہا تھوڑا وقت لگے گا مگر کام ہو جائے گا۔ارے واہ مبارک ہو۔ میں نے خوشدلی سے اسے مبارکباد دی۔تمہیں پتا ہے مجھ سمیت پانچ امیدوار ہیں مگر ڈائریکٹر صاحب میرے کام سے بہت خوش ہیں۔ کیوں نہ ہوں میں محنت جو اتنی کرتی۔۔وہ اندر داخل ہوتے ہوئے بھی مسلسل بولے جا رہی تھی۔میں اسکی پیروی کرتے ہوئے اس کی فتح کی داستان سے محظوظ ہو رہا تھا کہ۔۔ اچا نک میری نظر اسکی الٹی شلوار کے ریشمی دھاگوں سے الجھ گئی۔

 

ایک دفعہ ایک انجینئر راستے سے جا رہا تھا کہ اس کو ایک مینڈک دکھائی دیا۔ مینڈک نے انجینئر کو دیکھا تو بولا کہ ’مجھے کس کروپلیز اگر تم مجھے کس کرو گے تو میں ایک حسین شہزادی بن جاؤں گی اور تمہارے ساتھ ایک پورا ہفتہ گزاروں گی‘۔انجینئر نے اسے اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لیا اور چلتا رہا۔ تھوڑی دور جا کر مینڈک نے جیب سے منہ باہر نکال کر پھر سے بولا:مجھے کس کرو تو میں شہزادی بن جاؤں گی۔ انجینئر نے اسے دوبارہ بالکل نظرانداز کر دیا۔ وہ اسی طرح اپنا راستہ ناپتا رہا۔

تھوڑا اور آگے گئے تو مینڈک کو غصہ آگیا اور اس نے بولا کہ میری بات کیوں نہیں سن رہے۔ میں تمہیں کیا کہہ رہا ہوں کہ اگر تم نے مجھے کس کیا تو میں کہانیوں کی طرح شہزادی بن جاؤں گی۔۔میں تمہارے ساتھ پورے دو ہفتے گزار لوں گی لیکن میری بات تو سنو۔ انجینئر بولا کہ تمہاری ان باتوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ تم لڑکی بن جاؤ گے یا میرے ساتھ وقت گزارو گے۔لیکن میں یہ سوچ سوچ کہ خوش ہو رہا ہوں کہ اپنی انجینئر سوسائٹی کو جا کر دکھاؤں گا کہ دیکھو مجھے ایک بولنے والا مینڈک مل گیا ہے۔

وہاں ہم مل کر تمہارا چیک اپ بھی کریں گے کہ آخر تم کیسے بولتے ہو؟ ایک انجینئر ہمیشہ انوکھا ہوتا ہے، اگر کوئی نئی مشین خریدے تو اس کو کھول کر بیٹھ جاتا ہے ۔ اگر وہ مشین جلدی خراب ہو جائے تو کہتا ہے کہ اچھی نہیں بنائی گئی تھی اور اگرجلدی خراب نہ ہو توکہتا ہے کہ اس مشین میں اتنے تھوڑے فیچر تھے کہ اس میں خراب ہونے لائق کچھ تھا ہی نہیں۔ کسی نے ایک آدمی سے پوچھا کہ سول انجینئر اور میکینیکل انجینئر میں کیا فرق ہے؟ اس نے جواب دیا میکینیکل انجینئر کا کام ہوتا ہے ہتھیار بنانا جبکہ سول انجینئرکا کام ہوتا ہے ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لیے ان کے’ ٹارگٹ ‘یعنی عمارتیں بنانا۔ سائنس دانوں کی طرح انجینئر بھی ایک انوکھی قوم ہوتی ہے۔

ایک مثبت آدمی کو آدھا گلاس پانی دکھاؤ تو بولے گا کہ آدھا بھرا ہوا ہے۔ وہی گلاس ایک منفی انسان دیکھے گا تو بولے گا کہ آدھا خالی ہے لیکن اگر ایک انجینئر کو دکھاؤ تو بولے گا کہ گلاس ٹھیک نہیں بنایا گیا۔ اس کو اس سے آدھے سائز کا بنانا چاہیے تھا۔

 

 

ایک دن ایک بادشاہ نے درباری بڑھئی سے کہا کہ میں تجھے کل پھانسی دے دوں گا‘بڑھئی بیچارہ اس رات سو نہیں پا رہا تھا۔اس کی بیوی نے کہا‘ ہر رات کی طرح سوئیے کہ آپ کا پروردگار ایک ہے مگر مشکل سے نکلنے کے راستے بہت سے ہیں۔بیوی کی بات اس کے دل میں سکون و اطمینان پیدا کیا۔ آنکھیں بند ہونے لگیں اور وہ سو گیا۔

صبح سویرے سپاہیوں کے پیروں کی آواز سنی تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ مایوسی اور پشیمانی سے بیوی کو دیکھا‘ کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھول کر دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھا دیا کہ سپاہی اسے ہتھکڑی پہنا دیں‘ دو سپاہیوں نے تعجب سے کہا:بادشاہ مر گیا ہے۔

ہم اس لئے آئے ہیں کہ بادشاہ کےلئے تابوت بنا دو‘بڑھئی کے بدن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی‘ معذرت خواہی کے طور پر بیوی پر ایک نظر ڈالی‘ بیوی مسکرائی اور بولی:ہر رات کی طرح سکون سے سووں کہ پروردگار ایک ہے اور مشکلات سے نجات کے دروازے بہت سارے ہیں۔زیادہ فکر مندی انسان کو تھکا دیتی ہے جبکہ پروردگار عالم مالک اور سارے امور کی تدبیر کرنے والا ہے‘زیادہ فکرمندی سے بچیں‘ اپنے رب پر کامل بھروسہ رکھیں‘ جب اس پر بھروسہ رکھیں گے تو زندگی میں کبھی پرپشیمانی نہیں ہوںگے‘ وہ ہر مشکل سے آپ کو ایسے نکال لے گا جیسے مکھن سے بال۔

 

بابا جی نے اپنی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے ایک خوبصورت اور جوان عمر مریدنی لا کر سوکن ڈال رکھی تھی معاشی حالات خراب ہوئے تو اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ رہا کہ ایک کو طلاق دے دیں! کس کو دیں ، یہ بہت ہی مشکل مرحلہ تھا ایک طرف عمر بھر کا ساتھ تھا تو دوسری طرف حُسن اور ثقافت کی معراج کسی پر ظلم نا ہو تو بابا جی نے امتحان لینے کا فیصلہ کیا بابا جی نے اپنی دونوں بیویوں کو دس دس ہزار روپے دیے اور دو ہفتوں کے لیے کہیں چلے گئے واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ ان کی پہلی بیوی نے دو ہفتوں میں اپنا گزارہ کر کے بھی پینتیس سو بچا رکھے تھے جبکہ جوان و حسین بیوی نے نا صرف دس ہزار خرچ کردیے تھے بلکہ اِدھر اُدھر سے لے کر خرچ کرنے کے لیے پانچ ہزار کا قرضہ بھی اُٹھا رکھا تھا بابا جی نے فیصلہ کیا کہ ان کی پہلی بیوی انتہائی کفایت شعار اور سلیقہ مند ہے ، کسی نا کسی طرح اپنا گزارہ اور خرچہ چلا لے گی مگر یہ بیچاری نوجوان بیوی ان کے بغیر بھوکی مر جائے گی اس لیے انہوں نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دی بابا جی نے فیصلہ کیا کہ ان کی پہلی بیوی انتہائی کفایت شعار اور سلیقہ مند ہے ، کسی نا کسی طرح اپنا گزارہ اور خرچہ چلا لے گی مگر یہ بیچاری نوجوان بیوی ان کے بغیر بھوکی مر جائے گی اس لیے انہوں نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دی

 

ایک بہت بڑا بحری جہاز ڈوب جاتا ہے، اس میں سے صرف ایک ہی آدمی بچتا ہے، وہ کنارے پر تیر کر پہنچ جاتا ہے، کافی دن بیچارہ بھوکا پیاسا ساحل پر پڑا رہتا ہے۔

وہ ایک عجیب سے جزیرے پر اکیلا رہ جاتا ہے، آخر کار اپنا ایک ہٹ (جھونپڑی) تیار کرتا ہے، جھاڑیاں اور تنکے اکٹھے کرتا ہے اور اپنے لیے ایک چھت بنا لیتا ہے۔ کافی دن اسی طرح اس جزیرے پر صبر کرتا رہتا ہے اور روز تھوڑے بہت پھل کھا کر گزارہ چلا رہا ہوتا ہے کہ ایک دن جب وہ جنگل سے پھل لا رہا ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کے ہٹ (جھونپڑی) کو آگ لگی ہوئی ہوتی ہے، وہ بہت دل برداشتہ ہوتا ہے اور سوچتا ہے کہ اے خدا میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ وہ بہت روتا ہے اور روتے روتے سو جاتا ہے، جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو دیکھتا ہے کہ ساحل پر ایک بڑا بحری جہاز کھڑا ہوا ہوتا ہے، وہ بہت خوش ہوتا ہے اور اس کی طرف بھاگتا ہے۔

بحری جہاز میں سوار ہو کر وہ ان سے پوچھتا ہے کہ انھوں نے ادھر کا رخ کیسے کر لیا، تو وہ اس کو بتاتے ہیں کہ انھوں نے جزیرے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا تھا اور وہ سمجھ گئے کہ کسی کو ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس آدمی نے دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا کہ اس کا گھر جل گیا مگر اس میں اس ہی کی اپنی بھلائی پوشیدہ تھی۔جو کچھ بھی آپ کے ساتھ ہوتا ہے، اس پر پریشان مت ہوں، جب برا بھی ہو، تو بھی اس میں کچھ بھلائی کا پہلو ضرور پوشیدہ ہوگا۔ بس اپنا یقین پختہ رکھیں، یہ بہت ضروری ہے

 

Copyright 2020 | Anzik Writers