ابن عقیل رحمتہ اللہ علیہ اپنا واقعہ لکھتے ہیں کہ میں بہت ی زیادہ غریب آدمی تھا ایک مرتبہ میں نے طواف کرتے ہوے ایک ہار دیکھا جو بڑا قیمتی تھا میں نے وہ ہار اٹھایا میرا نفس کہہ رہا تھا کہ اسکو چھپا لوں لیکن دل نے کہا ہرگز نہیں یہ تو چوری ہے دیانداری کا تقاضا یہ ہے کہ اس ہار کو اس مالک تک پہنچایا جاے ۔ چانچہ مطاف میں کھڑے ہوکر میں نے اعلان کردیا کہ اگر کسی کا ہار کھوگیا ہے تو آکر مجھ سے لے جاے ۔ ایک نابینا آدمی آگے آیا اور کہا کہ یہ میرا ہار ہے اور یہ میرے تھیلے سے گرا ہے ۔

میرے نفس نے مجھے اور ملامت کردیا کہ ہار تو تھا بھی کسی نابینا کا ۔ اسکا کسی کو کیا پتہ چلنا تھا چھپا لیتے مگر میں نے ہار اس بزرگ نابینا کو دیا وہ دعائیں دیتا ہوا واپس چلا گیا ۔ میں اللہ سے روز روزی کی دعا کیا کرتا تھا کہ اللہ میرے لیے روزی کا انتظام کردے اللہ کی شان دیکھئیں کہ میں مکہ سے ” ہلا” آگیا یہ ایک شہر کا نام ہے ۔

وہاں ایک مسجد میں گیا تو پتہ چلا کہ وہاں کے امام صاحب فوت ہوگئے ہیں لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ آگے ہوکر نماز پڑھا دے میں نے جب نماز پڑھائی تو لوگوں کو میری نماز اچھی لگی وہ مجھے کہنے لگے تم یہاں امام کیوں نھی بن جاتے ۔ میں نے کہا چلیں ٹھیک ہے ۔ میں نے وہاں امامت کے فرائض ادا کرنے شروع کیئے ۔

تھوڑے دنوں بعد پتہ چلا کہ وفات شدہ امام صاحب کی ایک جوان سال بیٹی بھی تھی امام صاحب وصیت کرگئے تھے کہ اسکی شادی کسی نیک اور اللہ والے بندے سے کرانی ہے ۔ مقتدی لوگوں نے کہا اگر آپ چاہیں ہم آپکا نکاح اس سے کرادے گے ۔ میں نے کہا جیسے آپ لوگوں کی مرضی چنانچہ ہم دونوں کی شادی ہوگی ۔ ۔

شادی کے کچھ ماہ بعد میں نے ایک دن بیوی کے گلے میں وہی ہار دیکھا جو میں نے طواف میں اس بوڑھے کو واپس کردیا تھا میں نے اس سے حیرانی سے پوچھا یہ ہار کس کا ہے اور کہاں سے تیرے پاس آٰیا یہ ہار میرے ابو نے مجھے دیا تھا ، تب مجھے علم ہوا کہ امام صاحب وہی تھے جس کو میں نے طواف میں ہار لوٹایا تھا ۔

میں نے بیوی سے کہا کہ یہ ہار ان سے گر گیا تھا اور میں نے ہی لوٹایا تھا میری بیوی یہ سن کر خوشی سے اچھل پڑی اور کہا آپ دونوں کی دعائیں قبول ہوئی ہے ، میں نے کہا وہ کیسے اس نے کہا آپکی دعا تو اس طرح قبول ہوئی کہ اللہ نے آپ گھر دیا گھر والی دی رزق دیا

 

ایک چوہا تھا۔اس کا نام جینو تھا۔ وہ بہت ہی لالچی ، کاہل اورسست تھا۔ کاہل چوہا بہت زیادہ پیٹو بھی تھا۔ اس کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا تھا۔ایک دن کی بات ہے جینو کی ماں نے کہا کہ :”بیٹا! تم بہت زیادہ کھاتے ہو لیکن کام کاج سے جی چراتے ہو ۔ تم اپنے حصے کے علاوہ میرے اور

تمہارے پاپا کا کھانا بھی چٹ کر جاتے ہو۔یہ اچھی بات نہیں ہے آج سے تم اپنا کھانا خود تلاش کروگے۔ ہاں! ایک بات یاد رکھنا لالچ مت کرنا۔ زیادہ کھانے کے چکر میں کبھی کسی مصیبت میں مت پڑ جانا اپنا دھیان رکھنا۔

“ جینو بہت اداس ہوگیا۔ مگر اسے جانا ہی پڑا۔ وہ کھانے کی تلاش میں نکل گیا ۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گیاتھا کہ اسے راستے میں ایک گیہوں کا دانا ملا۔ وہ خوش ہو گیا۔ اس نے گیہوں کا دانا اٹھا لیا۔ تب ہی اس کی نظر خرگوش پر پڑی خرگوش اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔ ”تم مجھے دیکھ کر کیوں ہنس رہے ہو؟“ جینو نے خرگوش سے پوچھا۔

”میں تو تمہاری بے وقوفی پر ہنس رہا ہوں ۔ارے! ایک کسان کی بیل گاڑی یہاں سے گذری ہے۔ تھوڑا اور آگے جاوٴ تمہیں گیہوں کی بالی مل جائے گی۔ “ خرگوش کی باتیں سن کر جینو کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ جھٹ سے آگے بڑھ گیا۔ اس کی نظر گیہوں کی بالی پر پڑی۔ بالی راستے میں پڑی ہوئی تھی۔ جینو چوہے نے وہ بالی اٹھا لی اور خوشی کے مارے ناچنے لگا۔ تب ہی وہاں ایک گلہری آگئی

اس نے چوہے سے کہا:” ایک گیہوں کی بالی کیا ملی تم تو اچھلنے کودنے اور ناچنے گانے لگے۔ ارے! اور محنت کرو ۔تھوڑا آگے جاوٴتمہیں ایک بالی کی جگہ گیہوں کا پورا پودا مل جائے گا۔“ چوہے کو گلہری کی بات پسند آگئی وہ جھٹ سے آگے بڑھ گیا۔ چلتے چلتے وہ تھک گیا تھاکہ اچانک اس کی نظر گیہوں کے پودے پر پڑی۔ گیہوں کا پودا راستے میں گرا ہوا تھا۔ پودے میں بالیاں بالیاں تھیں۔

جینو خوشی کے مارے اچھلنے کودنے لگا۔ گیہوں کے پودے کو دیکھ کر جینو نے اپنے آپ سے کہا :” واہ! کیا مزہ آگیا؟ اب تو پیٹ خوب بھر ہی جائے گا۔“ بندر نے جب چوہے کو اس طرح ناچتے گاتے اور اچھلتے کودتے دیکھا تو چھلانگ مار کر اس کے قریب آیا اور کہا :” تم بھی یا ر بڑے بے وقوف لگتے ہو، بڑا سوچو، بڑا کام کرو، اگر تمہیں کئی دنوں کا کھانا ایک ہی جگہ مل جائے تو ؟“ ”ایسا! وہ جگہ کون سی ہے؟“ چوہے نے بندر سے پوچھا۔

”بس یہاں سے صرف پچاس قدم کے فاصلے پر گیہوں کی فصل کا ایک بہت بڑا کھیت ہے وہاں چلے جاوٓ اور زندگی بھر موج کرو۔“بندر نے جینو کو بتایا۔ چوہا بندر کی باتو ں میں آگیا۔ چلتے چلتے وہ کھیت میں پہنچ گیا۔

کھیت میں گیہوں کی لہلہاتی فصل کو دیکھ کر چوہے کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ رہا۔ اس نے آو دیکھا نہ تاو ، دوڑتا بھاگتا گیہوں کی بالیوں پر ٹوٹ پڑا۔ ابھی اس نے دوچار دانے ہی گیہوں کے کھائے تھے کہ تب ہی وہ ایک پھنکار سن کر ڈر گیا۔ ایک سانپ اپناپھن پھیلائے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔چوہا ڈر کے مارے کانپنے لگا۔ اسے اپنی موت نظر آنے لگی۔ سانپ کی پھنکار سن کر چوہے نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔

اچانک ایک نیولا کہیں سے دوڑتا ہوا آیااور اس نے سانپ پر حملہ بول دیا اور اسے دبوچ کر ادھ مرا کرڈالا۔ جینو چوہا بال بال بچ گیا۔ اس نے خود سے یہ عہد کیا کہ اب وہ ماں باپ کا کہنا مانے گااور کبھی بھی لالچ نہیں کرے گا کیوں کہ وہ ماں باپ کی نافرمانی اور لالچ کی وجہ سے ہی آج ایک بڑی مصیبت میں پھنس گیا تھا۔ لیکن یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ بال بال بچ گیا۔

 

ایک آدمی اپنے گاؤں والوں سے بہت تنگ آگیا اور سوچا کہ اپنا گاؤں ہی تبدیل کر لیا جائے۔ وہ کسی اچھے گاؤں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ ایک گاؤں کے پاس پہنچا تو سامنے ایک حکمت بھرے بزرگ کو پایا۔ اس نے بزرگ سے پوچھا کہ یہ گاؤں کیسا ہے؟ اس کے باسی کیسے ہیں؟ بزرگ نے اس سے پوچھا کہ تم کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس شخص نے بتایا کہ میں اپنے گاؤں والوں سے بہت تنگ ہوں اور اپنا گاؤں چھوڑنا چاہتا ہوں۔

میرے گاؤں کے لوگ بہت متکبر ہیں اور تعصب کا شکار ہیں۔ مجھے عاجز لوگوں کی تلاش ہے۔ اس بزرگ نے بولا کہ جاؤ اپنا راستہ ناپو کیونکہ ادھر کے لوگ بھی بہت برے ہیں۔ یہاں بھی بالکل ویسے ہی لوگ رہائش پزیر ہیں۔ وہ کافی مایوس ہوا اور آگے نکلا گیا۔ بزرگ ادھر ہی بیٹھا تھا کہ ایک اور آدمی کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس نے بھی بزرگ سے جا کر پوچھا کہ ادھر کیسے لوگ رہتے ہیں؟ میں اپنی رہائش کے لیے کوئی اچھا گاؤں تلاش کر رہا ہوں۔بزرگ نے اس سے بھی یہی سوال کیا کہ جو گاؤں تم چھوڑ کر آرہے ہو وہاں کے لوگ کیسے تھے؟ اس آدمی نے بتایا کہ بہت اچھے لوگ تھے، ملنسار اور ہمدرد۔ بزرگ نے اسے بولا کہ یہ جو پگڈنڈی دیکھ رہے ہو بس اس پر چلتے جاؤ اور تھوڑا دور جا کر میرے گاؤں میں داخل ہو جانا۔ یہاں کے لوگ بھی بہت اچھے ، ملنسار، خوش اخلاق اور ہمدرد ہیں۔ وہ آدمی خوشی خوشی اس کے گاؤں روانہ ہو گیا اور وہیں رہائش پزیر ہو گیا۔ حاصل سبق انسان جیسا خود ہوتا ہے اسے دنیا اور زمانہ بالکل ویسے ہی نظر آتے ہیں۔ اگر کسی کی دنیا اجڑی ہوئی ہے تو اس میں لوگوں کا ہاتھ بہت کم اور اس کا اپنا ہا تھ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ برا آدمی کیونکہ خود بد اخلاق اور شکی ہوتا ہے وہ ہر ایک کو اپنے جیسا گمان کرتا ہے

اور کسی پر اعتبار نہیں کر سکتا۔ کسی انسان کو اس وجہ سے ہرگز بے وقوف مت گردانو کہ وہ تمہاری ہر بات پر یکدم یقین کر لیتا ہے۔ جو انسان اور لوگوں پر فوراً بھروسہ کرتا ہے اس کی وجہ اس کی اپنی پاک دامنی اور نیک نیتی ہوتی ہے۔ جو خود کسی کے لیے گڑھے نہیں کھودتا وہ دوسرے انسانوں سے بھی اس کی ہرگز توقع نہیں کر سکتا۔کوئی انسان بذات خود جتنا قابل اعتبار ہو گا، اتنا ہی بے دھڑک دوسروں پر بھی بھروسہ کرے گا۔ ایسے میں اس کا بھروسہ سو بار ٹوٹنے سے وہ نہیں ہارتا بلکہ اس کے ساتھ خدا کے محافظ دن رات اس کے لیے ہر طرح کے اسباب بنانے میں جتے رہتے ہیں۔

جو انسان در در کی ٹھوکریں کھائے اور ہر ایک کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہو، اس نے دوسروں کی حق تلفی کرکے ایسا دردناک انجام کمایا ہوتا ہے۔ جو کوئی اپنے گھر سکون سے بیٹھ کر روزی روٹی کما لے اور اس کی زندگی پر سکون ہو،

اس کے کرم اس کے کام آئے ہوتے ہیں۔ انسان کو ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی نیت درست رکھے۔ انسان کی نیت ٹھیک ہو تو سو بار دھوکہ کھا کر سنبھل سکتا ہے کیونکہ سنبھالنے والا صرف نیت دیکھتا ہے اور وہ تو دلوں کے حال سے بخوبی واقف ہے۔

اللہ اپنے برے بندوں کو زیادہ تر مفلسی اور فحاشی کے امتحانوں میں مبتلا کر کے زمانے بھر میں رسوا کرتا ہے۔ خود اپنا محاسبہ کرو اور فیصلہ کرو کہ تم برے ہو یا زمانہ؟

 

ایک مرتبہ ایک پروفیسر اور کسان ایک ساتھ ریلوے سے سفر کررہے تھے۔ سفر کی بوریت دورکرنے کیلئے اورکچھ رقم اینٹھنے کیلئے پروفیسر نے کسان سے کہاکہ چلو ہم ایک کھیل کھیلتے ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے سوال پوچھیں گے۔ جس کو سوال کا جواب معلوم نہ ہوگا۔

(وہ سو روپیہ دے گا۔ )پروفیسر کو یقین تھا کہ یہ بیچارہ کسان میرے مقابلے میں کیاجانتاہوگا۔

کسان نے کہاٹھیک ہے لیکن میری گزارش ہے کہ آپ پروفیسر ہیں۔بہت کچھ جانتے ہیں میں غریب کسان ہوں اگر آپ کو کسی سوال کا جواب نہ آتا ہوا تو آپ سو روپے دیں گے اور اگر مجھے کسی سوال کا جواب نہ آتا ہوا تو میں پچاس روپے دوں گا۔پروفیسر نے منظورکرلیا۔ پہلا سوال کسان نے کیاکہ وہ کون سی چیز ہے جو زمین پر چلتی ہے تو دوٹانگ پر۔

اورہوا میں اڑتی ہے تو اس کے تین پیر ہوجاتے ہیں۔ پروفیسر نے بہت سوچا اوراس کے بعد خاموشی سے ایک سو روپیہ کسان کی طرف بڑھادیا اور کہا کہ مجھے جواب نہیں آتاکسان نے سو روپیہ لے کر رکھ لیا ،پروفیسر نے کہا کہ اب تم تو جواب بتاؤکسان نے پچاس روپے پروفیسر کی طرف بڑھادیئے اور کہا کہ اس سوال کا جواب مجھے بھی نہیں آتا

 

ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا دَور رہتا تھا-

ایک مرتبہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کوکھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے.

وہ غلام بازار جا رہا تھا کہ راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس پر گزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطےلوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ”جو شخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو چار دعائیں دوں گا” اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر دے دیے.حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا کیا دعائیں چاہتا ہے…؟غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں.حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے…؟غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے.حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے…؟

غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے.آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے.غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجمعے میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ بھی دعا کی.اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا.سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر کہنے لگا ” اتنی دیر لگا دی…؟

غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں…؟غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤں…..سردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا, دوسری کیا تھی…؟غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے…..سردار نے کہا میری طرف سے تمہیں چار ہزار درہم نذر ہیں, تیسری کیا تھی….؟غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے….سردار نے کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی….؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے….سردار نے کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیںہے….رات کو سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی.جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے….؟اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے….

اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ باعث نجات بھی ہے اللہ پاک ہم سب کو صدقہ کرنے اور اپنی زندگی کو عین اسلام کے مطابق بسر کرنے کی اور جو ہم سے گناہ ہو گئے ہیں ان کی معافی مانگنے کی توفیق دے —(ریاض الصالحین صفحہ ۱۲۰)۔

 

قرآن پڑھانے والے استاد نابینا تھے اور بچوں میں پھل بانٹ رہے تھے کہ ایک بچہ بار بار لائن میں چلا آتا میں یہ منظر کافی دیر سے دیکھ رہا تھا۔ اب میں جو کافی دیر سے یہ تماشا دیکھ رہا تھا نہ جانے کونسی غیبی طاقت نے میرے قدم جکڑ رکھے تھے ورنہ میں اس بچے کو ضرور ایسا کرنے سے منع کرتا کیوں کہ باقی بچوں کے ہاتھوں میں ایک ایک فروٹ تھا پر وہ کمزور سا چڑیا جیسا بچہ اچھے خاصے آم اور تربوز اپنے تھیلے میں ڈال چکا تھا

حیرانگی مجھے اس بات پر بھی ہوئی کہ استاد جی کے پاس اگر دوبارہ کوئی بچا آتا جو پہلے لے جا چکا ہو تو استاد جی اسکے گال کھینچتے اور بھگا دیتے، پر اسے نہ جانے کیسے نہیں پہچان پا رہے تھا یا وہ کیسے چکمہ دے جاتا تھا جب کہ آج تک مجھ جیسا بھگوڑا انہیں چکمہ نہیں دے پایاتھا۔

خیر دل میں ایک عجیب سی خوشی بھی تھی کوئی تو ہے جس سے استاد جی چکمہ کھا گۓ۔ خیر جب فروٹ ہضم تماشا ختم ہوگیا تو میں استاد جی کے پاس چلا گیا جو اپنے گھر کی طرف واپس جا رہے تھے میں نے راستے میں ہی انکو آ لیا اور کہنے لگا۔ ” بادشاہ لوگو میرا حصّہ کہاں ہے ابھی اتنا بڑا تو نہ ہوا میں۔ استاد جی مسکراۓ اور کہنے لگے۔ میرے نالائق پتر پھل تو محنت کرنے والوں کو ملتا ہے تماشے دیکھنے والے خالی ہاتھ ہی رہ جاتے ہیں تیری طرح …” خیر میں انکے ساتھ چلتا رہا آج شاید انہیں تنگ کرنے کا ارادہ بن رہا تھا میرا۔

” ارے استاد جی بہت افسوس کی بات ہے ایک چھوٹا سا بچہ آج ہاتھ کر گیا آپکے ساتھ .” کونسا بچہ ؟؟ اچھا کہیں تو اس چڑیا کی تو بات نہیں کر رہا جو ہاتھ میں بورا لئے بار بار گھوم کر آرہا تھا اپنا حصّہ وصول کرنے ؟؟ میں نے ایک نظر استاد جی کی طرف دیکھا اور سوچا یار یہ واقعی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے کیا ؟ جی استاد جی اسی کی بات کر رہا ہوں ” نہیں پتر وہ چکمہ نہیں دے رہا تھا میں چکمہ کھا رہا تھا. یہ جو باقی بچے تھے نا خود ہی آم چوستے اور پھر گھر والوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں،

پر اس بچے کو اپنے گھر والوں کا خیال تھا یہ جو پیچھے جھگیاں ہیں نا وہاں سے آتا ہے یہ اور میں روز اس سے دھوکہ کھاتا ہوں اب تو کچھ نشہ سا لگ گیا ہے ۔ پتر کبھی ایسے بچوں سے دھوکہ کھا کر دیکھ تیری پریشانیاں کیسے دھوکہ کھا کر تجھ سے راستہ بدل لیں گی تو سوچ بھی نہیں سکتا۔ کیا یہ دھوکہ ہم نہیں کھا سکتے؟

 

حضرت یحییٰ بن ایوب خزاعی سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک پرہیز گار جوان تھا، وہ مسجد میں گوشہ نشین رہتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتا تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہ شخص بہت پسند تھا۔ اس جوان کا بوڑھا باپ زندہ تھا اور وہ شخص عشاءکے بعد اپنے بوڑھے باپ سے ملنے روزانہ جایا کرتا تھا۔ راستہ میں ایک عورت کا مکان تھا، وہ اس جوان پر فریفتہ ہو گئی اور بہکانے لگی، روزانہ دروازے پر کھڑی رہتی اور جوان کو دیکھ کر بہکایا کرتی۔ ایک رات اس شخص کا گزر ہوا تو اس عورت نے بہکانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ شخص اس کے پیچھے ہو گیا،جب وہ اس عورت کے دروازے پر پہنچا تو پہلے عورت اپنے مکان میں داخل ہو گئی پھر یہ شخص بھی داخل ہو نے لگا، اچانک اس نے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور یہ آیت اس کی زبان سے بے ساختہ جاری ہو گئی ۔

”اِنَّ الَّذِینَ اتَّقَوا اِذَا مَسَّھُم طَائِف مِّنَ الشَّیطَانِ تَذَکَّرُوا فَاِذَا ھُم مُبصِرُونَ (اعراف201) ”بے شک جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں جب انہیں شیطان چھوتا ہے وہ چونک جاتے ہیں اور ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں”۔اور پھر غش کھا کر وہیں دروازے پر گر پڑا۔

اندر سے عورت آئی، یہ دیکھ کر کہ جوان اس کے دروازے پر بے ہوش پڑا ہے، اس کو اپنے اوپر الزام آنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ اس نے اپنی ایک لونڈی کی مدد سے اس جوان مرد کو وہاںسے اٹھا کر اس کے دروازے پر ڈال دیا۔ ادھر بوڑھا باپ اپنے لڑکے کی آمد کا منتظر تھا، جب بہت دیر تک وہ نہ آیا تو اس کی تلاش میں گھر سے نکلا، دیکھا کہ دروازے پر بے ہوش پڑا ہے۔

بوڑھے نے اپنے گھر والوں کو بلایا، وہ اس کو اٹھا کر اپنے گھر کے اندر لے گئے۔ رات کو وہ جوان ہوش میں آیا۔ باپ نے پوچھا بیٹا! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا، خیریت ہے۔باپ نے واقعہ کی حقیقت دریافت کی تو اس نے پورا واقعہ بیان کر دیا،پھر باپ نے پوچھا وہ کون سی آیت تھی جو تو نے پڑھی تھی؟ یہ سن کر بیٹے نے مذکورہ بالا آیت پڑھ کر سنا دی اور پھر بے ہوش ہو کر گر پڑا، اس کو ہلایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مر چکا ہے، چنانچہ رات ہی کو دفن کر دیا گیا جب صبح ہوئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے انتقال کی خبرملی تو مرحوم کے بوڑھے باپ کے پاس تعزیت کیلئے گئے، تعزیت کے بعد شکایت کی کہ مجھے خبر کیوں نہ دی۔

اس نے کہا امیر المومنین!رات ہونے کی وجہ سے اطلاع نہ دے سکے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔

قبر پر جا کر فرمایا، اے شخصوَلِمَن خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ ”اور اس شخص کیلئے جو خدا سے ڈرتا ہے دو باغ ہیں“(الرحمن)اس شخص نے قبر کے اندر سے جواب دیا۔یَا عُمَرُ قَد اَعطَانِیھَا رَبِّی فِی الجَنَّةِ۔”اے عمر اللہ نے مجھے دونوں جنتیں دے دی ہیں

 

ایک شخص کا ایک بیٹا تھا، روز رات کو دیر سے آتا اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا کہ بیٹا کہاں تھے؟ تو جھٹ سے کہتا کہ دوست کے ساتھ تھا۔ ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ بیٹا آج ہم آپ کے دوست سے ملنا چاہتے ہیں۔ بیٹے نے فوراً کہا اباجی اس وقت؟ ابھی رات کے دوبجے ہیں کل چلتے ہیں۔نہیں ابھی چلتے ہیں.

آپ کے دوست کا تو پتہ چلے. باپ نے ابھی پہ زور دیتے ہوئے کہا. جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا.

بالآخر بالکونی سے سر نکال کہ ایک بزرگ نے جو اس کے دوست کا باپ تھا آنے کی وجہ دریافت کی تو لڑکے نے کہا کہ اپنے دوست سے ملنے آیا ہے. اس وقت، مگروہ تو سو رہا ہے بزرگ نے جواب دیا. چاچا آپ اس کو جگاؤ مجھے اس سے ضروری کام ہے، مگر بہت دیر گزرنے کے بعد بھی یہی جواب آیا کہ صبح کو آجانا.

ابھی سونے دو، اب تو عزت کا معاملہ تھا تو اس نے ایمرجنسی اور اہم کام کا حوالہ دیا مگر آنا تودرکنار دیکھنا اور جھانکنا بھی گوارا نہ کیا. باپ نے بیٹے سے کہا کہچلو اب میرے ایک دوست کے پاس چلتے ہیں. جس کا نام خیر دین ہے.

دور سفر کرتے اذانوں سے ذرا پہلے وہ اس گاؤں پہنچے اور خیردین کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر جواب ندارد، بالآخر اس نے زور سے اپنا نام بتایا کہ میں اللہ ڈنو، مگر پھر بھی دروازہ ساکت اور کوئی حرکت نہیں. اب تو بیٹے کے چہرے پہ بھی فاتحانہ مسکراہٹ آگئی.

لیکن اسی لمحے لاٹھی کی ٹھک ٹھک سنائی دی، اور دروازے کی زنجیر اور کنڈی کھولنے کی آواز آئی، ایک بوڑھا شخص برآمد ہوا جس نے لپٹ کر اپنے دوست کو گلے لگایا اور بولا کہ میرے دوست، بہت معذرت، مجھے دیر اس لیے ہوئی کہ جب تم نے 27 سال بعد میرا دروازہ رات گئے کھٹکھٹایا تو مجھے لگا کہکسی مصیبت میں ہو، اس لیے جمع پیسے نکالے کہ شاید پیسوں کی ضرورت ہے، پھر بیٹےکو اٹھایا کہ شاید بندے کی ضرورت ہے، پھر سوچا شاید فیصلے کےلیے پگ کی ضرورت ہو تو اسے بھی لایا ہوں.

اب سب کچھ سامنے ہے، پہلے بتاؤ کہ کس چیز.کی ضرورت ہے؟ یہ سن کر بیٹے کی آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ابا جی کتنا سمجھاتے تھے کہ بیٹا دوست وہ نہیں. ہوتا جو رت جگوں میں. ساتھ ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک آواز پر حق دوستی نبھانے آجائے.

 

یہ واقعہ لندن کی ایک مشہور کاروباری سماجی شخصیت جو ذہین و فتین بھی تھے کے متعلقہ ہے۔ 1960 کی دہائی میں ہفتے کی شام کو جب تمام بنک بند ہو گۓ وہ شخص کاروں کے ایک بڑے شو روم پر پہنچا اور وہاں موجود سب سے قیمتی گاڑی پسند کر کے مالک شو روم کو مطلوبہ قیمت کا چیک دے کر گاڑی کے کاغذات لےلیے۔

کاغذات لیکروہ چلتے ہوۓ سامنے موجود دوسرے شو روم پر گیا۔ اوروہی گاڑی قیمت خرید سے دو ہزار پونڈ کم پر فروخت کر کے دوسرے شو روم کے مالک سے نقد رقم وصول کرلی- پہلے شو روم کا مالک یہ سارا منظر دئکھتا رہا جب وہ شخص گاڑی لینے آیا تو شو روم کے مالک نے گاڑی دینے سےنہ صرف انکار کر دیا بلکہ پولیس کو بُلا کر ساری کہانی سُنائی اور اُس شخص پر چیک فراڈ کا کیس بھی کر دیا۔ پولیس نےچیک فراذ کے زمرے میں اس شخص کو گرفتار کر کےحوالات میں بند کر دیا۔

تیسرے دن جب بنک کے دفاتر کھلے اور چیک بنک میں پیش کیا گیا تو چیک کیش ہو گیاجس پر پولیس نے ملزم کو رہا کر دیا۔ وہ شخص عدالت گیا اور شو روم کے مالک اور لندن پولیس کے خلاف جُرمانے اور ہتک عزت کا دعوی دائر کر دیا۔ عدالت نے دعوی ڈگری کر دیا اور یوں شو روم کے مالک کو ایک کثیر رقم جُرمانہ میں ادا کرنی پڑی اور لندن پولیس کواُس شخص سے معافی مانگنی پڑی۔ برطا نیہ کے قانون کا تقاظہ بھی یہی تھا کہ جب تک بنک مذکورہ شخص کا چیک باونس نہ کرتا اُس کے خلاف کاروائی نا کی جاتی۔ اس ساری کاروائی میں برطانیہ کی عدالت کو 5 دن لگے۔

 

امریکہ میں ایک یونیورسٹی کا انگریز پروفیسر اسلام کے لیے دل میں بہت نفرت رکھتا تھا.اس نے ایک دن مسلمان طلبہ سے سوال کیا کہ!تمہارا خدا قرآن کے 33:4 میں کہتا ہے کہ آدمی کے سینے میں ایک دل هوتا هے عورت کا کیوں نهیں کہا ..کیا عورت کے سینے میں ایک دل نہیں هوتا?? ایک مسلمان طالب علم نے جواب دیا!!قرآن بالکل ٹھیک کہتا ہے

کیونکہ عورت کے سینے میں تب دو دل دھڑکتے ہیں جب اس کے پیٹ میں اس کا بچہ هوتا هے. انگریز پروفیسر یہ جواب سن کر ششدر ره گیا اور اس کے بعد کوئی

نہیں کیا..اور الحمدللہ قرآن پاک میں سچ کےسوا کچھ نہیں پیارے بہن بهائیوں میں یہ نہیں کہتا کہ امریکہ یا کہیں اور دوسرے غیر مسلم ممالک میں تعلیم حاصل کرنے نہ جاؤ بس اتنا کہوں گا قرآن ۔سنت اور احادیث کوئی مضبوطی سے تهامے رکهوں گے کوئی بهی آپ کو گمراه نہیں کر سکتا۔اللہ پاک ہماری نوجوان نسل کو قرآن پاک کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ.آمین ثمہ آمین

 

Copyright 2020 | Anzik Writers