اوہ کیسا شعبدہ گر تھا

Facebook Twitter Pinterest LinkedInاوہ کیسا شعبدہ گر تھا جو مصنوعی ستاروں اور نقلی سورجوں کی اک جھلک دکھلا کے میرے سادہ دل لوگوں کی آنکھوں کے دیئے ہونٹوں کے جگنو لے گیا اور اب یہ عالم ہے کہ میرے شہر کا ہر اک مکاں اک غار کی مانند محروم نوا ہے اور ہنستا بولتا ہر […]

 مزید پڑھیں

کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے

Facebook Twitter Pinterest LinkedInکس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے اتنا تو کڑا سفر نہیں تھا وہ چار قدم کا فاصلہ کیا پھر راہ سے بے خبر نہیں تھا لیکن یہ تھکن یہ لڑکھڑاہٹ یہ حال تو عمر بھر نہیں تھا آغاز سفر میں جب چلے تھے کب ہم نے کوئی دیا جلایا کب عہد وفا […]

 مزید پڑھیں

اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا

Facebook Twitter Pinterest LinkedInاعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا الزام نہ دھر عشق پہ شوریدہ سری کا اس وقت مرے کلبۂ غم میں ترا آنا بھٹکا ہوا جھونکا ہے نسیم سحری کا تجھ سے ترے کوچے کا پتہ پوچھ رہا ہوں اس وقت یہ عالم ہے مری بے خبری کا یہ فرش ترے رقص […]

 مزید پڑھیں

اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا

Facebook Twitter Pinterest LinkedInاپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا میرے جھوٹ کو کھولو بھی اور تولو بھی تم لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا بزم میں […]

 مزید پڑھیں

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا

Facebook Twitter Pinterest LinkedInمنتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers