دنیا کے تنہا ترین درخت کا قصہء غم (دشتِ تنہائی)

دنیا کے تنہا ترین درخت کا قصہء غم

تحریر: ندیم رزاق کھوہارا

اس نے پہلی بار جب کونپلیں کھولیں تو اس کے اردگرد ایک بہار تھی سبزے کی بہار۔۔۔۔ اس کے جیسے کئی ایسے درخت تھے جو جابجا، قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ کچھ اس کی طرح ابھی سر اٹھا رہے تھے کچھ شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے۔ وہ بھی ان کی طرح مٹی میں قدم جمائے سر اٹھاتا چلا گیا۔ لیکن جب تک وہ اپنے ساتھیوں کے برابر پہنچا تو ان میں سے کوئی نہ بچا تھا۔ وہ تنہا ہو چکا تھا۔ اتنا تنہا کہ اس کے آس پاس سینکڑوں کلومیٹر تک اس جیسا کوئی نہ تھا۔ وہ دنیا کا دنیا ترین درخت تھا۔

اگر آپ دنیا کے نقشے پر نگاہ ڈالیں تو افریقی ممالک کے عین بیچوں بیچ نائیجر نام کا ایک ملک نظر آئے گا۔ نائیجر جو کہ آج کل صحرائے اعظم صحارا کا حصہ بن چکا ہے۔ کبھی ایک ہرا بھرا خطہ ہوا کرتا تھا۔ اس کے ایک مقام پر کیکر نما درختوں کی بڑی لمبی قطار ہوا کرتی تھی۔ جن میں ایک وہ بھی تھا۔ وہ سب شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے۔ لیکن پھر صحرائے اعظم نے اس رقبے کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا۔ زمین نے رنگ بدلا تو اس کے قدموں تلے بچھی بھوری مٹی سنہری ریت میں تبدیل ہوتی گئی۔ اس کے ساتھی اس تبدیلی کو سہار نہ پائے۔ ایک ایک کر کے سب سوکھتے گئے۔ جوں جوں ریت کا پھیلاؤ بڑھتا گیا توں توں درختوں کی ہریالی سمٹتی گئی۔ گیلی مٹی میں بنیاد جمائے درخت خشک ریت کی نذر ہوتے گئے۔
کھیت کھلیان میں شان سے سر اٹھائے کیکر ریگستان کے سامنے سرنگوں ہوتے گئے اور صحرا بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ مقام جہاں ہر طرف ہرے بھرے درختوں کی بہار ہوا کرتی تھی وہاں صرف ایک درخت باقی بچا۔۔۔۔ طنیرے کا واحد درخت

طنیرے بربری زبان میں صحرا کو کہا جاتا ہے۔ صحرائے صحارا کے بیچوں بیچ کھڑا یہ واحد درخت تھا جو سانس لے رہا تھا۔ سانس دے رہا تھا۔ سال دہائیوں میں اور دہائیاں صدی میں بدلتی گئیں۔ لیکن یہ تنہا و یکتا طنیرے کا درخت کھڑا رہا۔ اتنا تنہا کہ اس کے آس پاس چار سو کلومیٹر تک اور کوئی درخت نہ بچا تھا۔ فاصلے کے کا اندازہ یوں لگا لیجیے کہ آپ اسلام آباد سے بذریعہ لاہور ملتان کی جانب سفر کریں تو آپ کو پورے علاقے میں صرف لاہور میں کھڑا ایک درخت نظر آئے۔ وہ اتنا تنہا تھا کہ اس کے اردگرد سبزے کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔ اور درخت کے علاوہ باقی تھی تو صرف ریت۔۔۔

تنہائی ایک ایسا لفظ ہے جس کو تصور ذہن میں آتے ہی اداسی، یاسیت اور اکیلے پن کا احساس ابھرتا ہے۔ شاید ایسے ہی کسی موقعے پر شاعر کہا ہے۔۔۔۔
دلِ ویراں ہے تیری یاد ہے تنہائی ہے۔۔۔۔
زندگی درد کی بانہوں میں سمٹ آئی ہے

لیکن اس قدر تنہائی کے باوجود یہ درخت یاسیت کی بجائے زندگی کی علامت بن کر ابھرا۔

بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں اس درخت کو اہمیت ملنا شروع ہوئی جب علاقے کی نقشہ کشی کرنے کے لیے اسے ایک لینڈ مارک کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ یورپ سے افریقہ تک سائنسدانوں کی سروے ٹیمیں آتیں تو ہر سروے کے لیے اس درخت کو بینچ مارک کے طور پر استعمال کرتی۔ ایسا کرنا ان کی مجبوری بھی تھی کیونکہ اس کے سواء سینکڑوں کلومیٹر تک ایسا اور کوئی مقام نہیں تھا جسے مارک کے طور پر چنا جا سکے۔ نہ صرف سروے بلکہ یہ درخت آنے جانے والے قافلوں کے لیے بھی سستانے اور دم بھرنے کا مقام اختیار کر چکا تھا۔

اونٹوں کے قافلے گذرتے رہے۔ کاروان چلتے رہے۔ درخت کھڑا رہا۔ نہ تو بھٹکے ہوئے اونٹ اس کی شاخیں غذا کے لیے استعمال کرتے تھے نہ ہی تھکے ماندے قافلے اس کی شاخوں کو چائے کی خاطر آگ جلانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ کیونکہ یہ سب کے لیے ایک مقدس درخت کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ ایسا مقدس جس کا دور دور تک کوئی ثانی نہیں۔ جو تنِ تنہا کھڑا ہو کر تپتی دھوپ میں سستانے کا مقام مہیا کرتا تھا۔ موت کی ویرانی میں بھی جینے کا سامان مہیا کرتا تھا۔ تھکے ہوئے جسموں کو آرام مہیا کرتا تھا۔ خود بے نشان ہو کر بھی بھٹکے ہوؤں کو نشان مہیا کرتا تھا۔ یہ محض ایک درخت نہیں رہا تھا۔ ایک مقدس روح تھی جو باعثِ تسکین و راحتِ جاں تھی۔

سال انیس سو اڑتیس میں اس درخت کے پاس ایک کنویں کی کھدائی کی گئی تو ماہرین یہ جان کر حیران رہ گئے کہ اس کی جڑیں پانی کی تلاش میں ایک سو بیس فٹ گہرائی تک پہنچ چکی ہیں۔ خشک ہو چلی آنکھوں کو نمی کا احساس دلانے والا نمی کی تلاش میں خشکی کا سینہ چیر کر ان گہرائیوں تک جا پہنچا تھا جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس دوران یکے بعد دیگر ہونے والی جنگ ہائے عظیم کے سائے پوری دنیا پر لہرائے تو اس کے اثرات صحارا پر بھی نظر آئے۔ جب یہاں پر دو صحرائی مقامات کو ملانے کے لیے ایک طویل سڑک تعمیر کی گئی جو کہ اس درخت کے پاس سے گذرتی تھی۔ تب 1934 میں یہاں سے گذرنے والے گاڑیوں کے پہلے قافلے میں فرانسیسی سیاح ہینری لیہوٹے نے بھی سفر کیا۔ انہوں نے پچیس سال بعد انیس سو انسٹھ میں جب دوبارہ یہاں کا سفر کیا تو اپنے تاثرات کچھ یوں قلمبند کیے۔۔۔

"جب میں نے پہلی بار اس درخت کو دیکھا تھا تو اس پر چھوٹے چھوٹے زرد پھول کھلے ہوئے تھے۔ جو صحرا میں بھی بہار کا منظر پیش کر رہے تھے۔ لیکن اب یہ ایک ٹنڈ مند سے درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے جس پر خزاں کی زردی چھائی ہے۔ پہلے اس کے دو تنے ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج بس ایک تنا ہے۔ تنہا درخت کا تنہا تنا۔۔۔ دوسرا تنا ریت سے کچھ اوپر کٹا ہوا ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ٹرک اس سے آ کر ٹکرایا ہے۔ لوگوں کو راحت مہیا کرنے والا یہ درخت جس نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا ہماری مشینی زندگی کا شکار ہو گیا۔"

لیکن اس درخت میں ابھی زندگی کی رمق باقی تھی۔ یہ ایک بار پھر سے اُگا۔ ہر سال نئے پتے نکالتا اور پرانے جھاڑتا رہا۔ اپنی ہریالی سے انسانوں کو فائدہ دیتا رہا۔ لیکن ہم انسان شاید اس لائق نہیں تھے۔ تقریباً چودہ سال بعد سال 1973 میں ایک اور ٹرک اس سے آ ٹکرایا۔ نشے میں دھت ڈرائیور نے بے قابو ٹرک درخت میں دے مارا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ یہ جڑ سے اکھڑ گیا۔ صدیوں سے مصائب کا سامنا کر کے بھی زندہ رہنے والا سخت جان درخت یہ صدمہ سہ نہ پایا۔ اور اپنی زندگی ہار گیا۔ نائیجر کی حکومت نے باقی ماندہ تنے کو اٹھا کر قومی عجائب گھر میں رکھ دیا۔ جہاں آج بھی ایک آہنی چھت تلے کھڑا اس کا سوکھا ہوا تنا مظہر العجائب ہے۔ جبکہ اس کے اصل مقام پر ایک دھاتی تنا یادگار کے طور پر نصب کیا گیا ہے۔ لیکن دھات بھلا کہاں زندگی کے نشاں دیتی ہے۔

اس درخت کے بارے میں بے شمار کتب، مضامین اور کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ اور مقامی طور پر کئی روایات بھی موجود ہیں۔ طنیرے کا یہ کیکر اتنا سخت جان تھا کہ بھاری ٹرک کی ٹکر کو بھی سہ سکتا تھا۔ اس کی بنیادیں اتنی مضبوط تھیں کہ وہ ایک بار پھر سَر اٹھا سکتا تھا۔ لیکن درخت بھی آخر احساس رکھتے ہیں۔ کیا ضروری تھا کہ یہ سڑک درخت کے پاس ہی بنائی جاتی؟ اور کیوں آخر ایک ٹرک بے قابو ہو کر اس درخت سے ہی ٹکرایا۔ سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرتا یہ ٹرک بے قابو ہو کر ریت میں بھی تو دھنس سکتا تھا؟ سو سالوں سے تتنہائیوں کے دشت میں کھڑے اس کیکر نے قرنطینہ میں رہ کر ہر طرح کے آلام جھیلے تھے۔ وہ غیر معمولی طور پر سخت جان تھا۔ لیکن شاید مشینی زندگی کا وائرس اگر پھیل جائے تو اس کے سامنے قرنطینہ جیسی تنہائی بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

(ندیم رزاق کھوہارا)

اسی کے متعلق مزید شعر

Copyright 2020 | Anzik Writers