اوہ کیسا شعبدہ گر تھا

اوہ کیسا شعبدہ گر تھا جو مصنوعی ستاروں اور نقلی سورجوں کی اک جھلک دکھلا کے میرے سادہ دل لوگوں کی آنکھوں کے دیئے ہونٹوں کے جگنو لے گیا اور اب یہ عالم ہے کہ میرے شہر کا ہر اک مکاں اک غار کی مانند محروم نوا ہے اور ہنستا بولتا ہر شخص اک دیوار […]

 مزید پڑھیں

کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے

کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے اتنا تو کڑا سفر نہیں تھا وہ چار قدم کا فاصلہ کیا پھر راہ سے بے خبر نہیں تھا لیکن یہ تھکن یہ لڑکھڑاہٹ یہ حال تو عمر بھر نہیں تھا آغاز سفر میں جب چلے تھے کب ہم نے کوئی دیا جلایا کب عہد وفا کی بات کی […]

 مزید پڑھیں

اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا

اعجاز ہے یہ تیری پریشاں نظری کا الزام نہ دھر عشق پہ شوریدہ سری کا اس وقت مرے کلبۂ غم میں ترا آنا بھٹکا ہوا جھونکا ہے نسیم سحری کا تجھ سے ترے کوچے کا پتہ پوچھ رہا ہوں اس وقت یہ عالم ہے مری بے خبری کا یہ فرش ترے رقص سے جو گونج […]

 مزید پڑھیں

اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا

اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا میرے جھوٹ کو کھولو بھی اور تولو بھی تم لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا بزم میں یاروں کی شمشیر […]

 مزید پڑھیں

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا

منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا کیسے پایا تھا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers