بس یوں ہی اک وہم سا ہے واقعہ ایسا نہیں

بس یوں ہی اک وہم سا ہے واقعہ ایسا نہیں آئنے کی بات سچی ہے کہ میں تنہا نہیں بیٹھیے پیڑوں کی اترن کا الاؤ تاپئے برگ سوزاں کے سوا درویش کچھ رکھتا نہیں اف چٹخنے کی صدا سے کس قدر ڈرتا ہوں میں کتنی باتیں ہیں کہ دانستہ جنہیں سوچا نہیں اپنی اپنی سب […]

 مزید پڑھیں

درمیاں گر نہ ترا وعدۂ فردا ہوتا

درمیاں گر نہ ترا وعدۂ فردا ہوتا کس کو منظور یہ زہر غم دنیا ہوتا کیا قیامت ہے کہ اب میں بھی نہیں وہ بھی نہیں دیکھنا تھا تو اسے دور سے دیکھا ہوتا کاسۂ زخم طلب لے کے چلا ہوں خالی سنگ ریزہ ہی کوئی آپ نے پھینکا ہوتا فلسفہ سر بہ گریباں ہے […]

 مزید پڑھیں

میری قسمت کہ وہ اب ہیں مرے غم خواروں میں

میری قسمت کہ وہ اب ہیں مرے غم خواروں میں کل جو شامل تھے ترے حاشیہ برداروں میں زہر ایجاد کرو اور یہ پیہم سوچو زندگی ہے کہ نہیں دوسرے سیاروں میں کتنے آنسو ہیں کہ پلکوں پہ نہیں آ سکتے کتنی خبریں ہیں جو چھپتی نہیں اخباروں میں اب تو دریا کی طبیعت بھی […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers