بے ہوشیوں نے اور خبردار کر دیا

بے ہوشیوں نے اور خبردار کر دیا سوئی جو عقل روح نے بیدار کر دیا اللہ رے حسن دوست کی آئینہ داریاں اہل نظر کو نقش بہ دیوار کر دیا یا رب یہ بھید کیا ہے کہ راحت کی فکر نے انساں کو اور غم میں گرفتار کر دیا دل کچھ پنپ چلا تھا تغافل […]

 مزید پڑھیں

میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی

میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی شبنم کو پی رہی ہے کرن آفتاب کی بجھنے پہ دل ہے سانس میں بھی ضابطہ نہیں ظالم دہائی ہے ترے زور شباب کی منظور ہے خدا کو تو پہنچوں گا روز حشر چہرے پہ خاک مل کے در بوتراب کی صورت پرست میری نگاہوں نے […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers