ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر وہی اصرار ہے خطاؤں پر رہیں نا آشنا زمانہ سے حق ہے تیرا یہ آشناؤں پر رہروو با خبر رہو کہ گماں رہزنی کا ہے رہنماؤں پر ہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیا مرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر […]

 مزید پڑھیں

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز دوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگز عشق بھی تاک میں بیٹھا ہے نظر بازوں کی دیکھنا شیر سے آنکھیں نہ لڑانا ہرگز ہاتھ ملنے نہ ہوں پیری میں اگر حسرت سے تو جوانی میں نہ یہ روگ بسانا ہرگز جتنے رستے تھے ترے ہو […]

 مزید پڑھیں

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر وہی اصرار ہے خطاؤں پر رہیں نا آشنا زمانہ سے حق ہے تیرا یہ آشناؤں پر رہروو با خبر رہو کہ گماں رہزنی کا ہے رہنماؤں پر ہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیا مرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر […]

 مزید پڑھیں

بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج

بات کچھ ہم سے بن نہ آئی آج بول کر ہم نے منہ کی کھائی آج چپ پر اپنی بھرم تھے کیا کیا کچھ بات بگڑی بنی بنائی آج شکوہ کرنے کی خو نہ تھی اپنی پر طبیعت ہی کچھ بھر آئی آج بزم ساقی نے دی الٹ ساری خوب بھر بھر کے خم لنڈھائی […]

 مزید پڑھیں

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیا جمع ہیں ہر سو تماشائی بہت ہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دل راس ہے کچھ اس کو خود رائی بہت سرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیں دل پہ ہے نقش […]

 مزید پڑھیں

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز دوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگز عشق بھی تاک میں بیٹھا ہے نظر بازوں کی دیکھنا شیر سے آنکھیں نہ لڑانا ہرگز ہاتھ ملنے نہ ہوں پیری میں اگر حسرت سے تو جوانی میں نہ یہ روگ بسانا ہرگز جتنے رستے تھے ترے ہو […]

 مزید پڑھیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں مجھ کو تم سے اعتماد وفا تم کو مجھ سے پر التفات نہیں رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ زندگی موت ہے حیات نہیں یوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکن فرصت غم کو بھی ثبات نہیں کوئی دل […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers