بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا

بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا وہ پاس آ رہا تھا کہ میں دور ہٹ گیا پھر درمیان عقل و جنوں جنگ چھڑ گئی پھر مجمع خواص گروہوں میں بٹ گیا کیا اب بھی تیری خاطر نازک پہ بار ہوں پتھر نہیں کہ میں ترے رستے سے ہٹ گیا یا اتنا سخت جان […]

 مزید پڑھیں

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ

اک شخص با ضمیر مرا یار مصحفیؔ میری طرح وفا کا پرستار مصحفیؔ رہتا تھا کج کلاہ امیروں کے درمیاں یکسر لئے ہوئے مرا کردار مصحفیؔ دیتے ہیں داد غیر کو کب اہل لکھنؤ کب داد کا تھا ان سے طلب گار مصحفیؔ نا قدریٔ جہاں سے کئی بار آ کے تنگ اک عمر شعر […]

 مزید پڑھیں

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا

اس نے جب ہنس کے نمسکار کیا مجھ کو انسان سے اوتار کیا دشت غربت میں دل ویراں نے یاد جمنا کو کئی بار کیا پیار کی بات نہ پوچھو یارو ہم نے کس کس سے نہیں پیار کیا کتنی خوابیدہ تمناؤں کو اس کی آواز نے بیدار کیا ہم پجاری ہیں بتوں کے جالبؔ […]

 مزید پڑھیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں دنیا والے دل […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers