لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا

لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا قبائے گل سے اسے استعارہ کیا کرتا بہار گل میں ہیں دریا کے جوش کی لہریں بھلا میں کشتئ مے سے کنارہ کیا کرتا نقاب الٹ کے جو منہ عاشقوں کو دکھلاتے تمہیں کہو کہ تمہارا نظارہ کیا کرتا سنا جو حال دل زار یار نے تو […]

 مزید پڑھیں

کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے

کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے مستوں کو جوش صوفیوں کو حال آ چکے ہستی کو مثل نقش کف پا مٹا چکے عاشق نقاب شاہد مقصود اٹھا چکے کعبے سے دیر دیر سے کعبے کو جا چکے کیا کیا نہ اس دوراہے میں ہم پھیر کھا چکے گستاخ ہاتھ طوق کمر یار […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers