آپ کی آنکھ اگر آج گلابی ہوگی

آپ کی آنکھ اگر آج گلابی ہوگی میری سرکار بڑی سخت خرابی ہوگی محتسب نے ہی پڑھا ہوگا مقالہ پہلے مری تقریر بہ ہر حال جوابی ہوگی آنکھ اٹھانے سے بھی پہلے ہی وہ ہوں گے غائب کیا خبر تھی کہ انہیں اتنی شتابی ہوگی ہر محبت کو سمجھتا ہے وہ ناول کا ورق اس […]

 مزید پڑھیں

اے ساقئ مہ وش غم دوراں نہیں اٹھتا

اے ساقئ مہ وش غم دوراں نہیں اٹھتا درویش کے حجرے سے یہ مہماں نہیں اٹھتا کہتے تھے کہ ہے بار دو عالم بھی کوئی چیز دیکھا ہے تو اب بار گریباں نہیں اٹھتا کیا میرے سفینے ہی کی دریا کو کھٹک تھی کیا بات ہے اب کیوں کوئی طوفاں نہیں اٹھتا کس نقش قدم […]

 مزید پڑھیں

آنکھوں سے تری زلف کا سایہ نہیں جاتا

آنکھوں سے تری زلف کا سایہ نہیں جاتا آرام جو دیکھا ہے بھلایا نہیں جاتا اللہ رے نادان جوانی کی امنگیں! جیسے کوئی بازار سجایا نہیں جاتا آنکھوں سے پلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالو اب ہم سے کوئی جام اٹھایا نہیں جاتا بولے کوئی ہنس کر تو چھڑک دیتے ہیں جاں بھی لیکن کوئی […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers