میں نے تُم کو سُنا

میں نے تُم کو سُنا جیسے پانی مُنکشف ہوتا ہے جیسے زمین، مجذوب سی سرشاری میں لپٹی ہوئی اپنی پیاس کو گلے لگاتی ہے میں نے تُم کو سُنا اور میری سماعت جاگ گئی جیسے بارش کی بوندیں پڑنے کے بعد مٹّی کی سوئی ہوئی خوشبو بیدار ہوتی ہے میں نے تُم کو سُنا جیسے […]

 مزید پڑھیں

اپنی بے صدا خواہشوں کا لشکر لیکر

اپنی بے صدا خواہشوں کا لشکر لیکر کل تم غباروں کو لپیٹتے ہوئے میری آنکھوں میں ہو کر گزری تھی نہ صاحب سلامت کی نہ میری طرف دیکھا میں درد کا میٹھا نغمہ بن کر بہنا چاہتا تھا کہ تمہارے نقش ہائے کفِ پاء سے اٹھتے ہوئے لحنِ سرود نے مجھے اپنی آغوش میں لیا […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers