اب وہ اگلا سا التفات نہیں

اب وہ اگلا سا التفات نہیں جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں مجھ کو تم سے اعتماد وفا تم کو مجھ سے پر التفات نہیں رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ زندگی موت ہے حیات نہیں یوں ہی گزرے تو سہل ہے لیکن فرصت غم کو بھی ثبات نہیں کوئی دل […]

 مزید پڑھیں

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی دیا ہے میں نے انہیں ذوق آتش آشامی حرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ سنج کہ تار تار ہوئے جامہ ہاے احرامی حقیقت ابدی ہے مقام شبیری بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی مجھے یہ ڈر ہے مقامر ہیں پختہ کار بہت نہ رنگ لائے […]

 مزید پڑھیں

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے وہ شہر میں تھا تو اس […]

 مزید پڑھیں

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے خالی رستہ بول رہا ہے آج تو یوں خاموش ہے دنیا جیسے کچھ ہونے والا ہے کیسی اندھیری رات ہے دیکھو اپنے آپ سے ڈر لگتا ہے آج تو شہر کی روش روش پر پتوں کا میلہ سا لگا ہے آؤ گھاس پہ سبھا جمائیں مے خانہ تو […]

 مزید پڑھیں

بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں

بھولے بسرے موسموں کے درمیاں رہتا ہوں میں اب جہاں کوئی نہیں وہاں رہتا ہوں میں دن ڈھلے کرتا ہوں بوڑھی ہڈیوں سے ساز باز جب تلک شب ڈھل نہیں جاتی جواں رہتا ہوں میں کیا خبر ان کو بھی آتا ہو کبھی میرا خیال کن ملالوں میں ہوں کیسا ہوں کہاں رہتا ہوں میں […]

 مزید پڑھیں

ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے

ڈھب ہیں تیرے سے باغ میں گل کے بو گئی کچھ دماغ میں گل کے جائے روغن دیا کرے ہے عشق خون بلبل چراغ میں گل کے دل تسلی نہیں صبا ورنہ جلوے سب ہیں گے داغ میں گل کے اس حدیقے کے عیش پر مت جا مے نہیں ہے ایاغ میں گل کے سیر […]

 مزید پڑھیں

زید سے زیدی بنا اور بکر سے بکری ہوا

زید سے زیدی بنا اور بکر سے بکری ہوا سامنا بزدل سے تھا میں اس لیے بکری ہوا یوں سجا رکھا تھا قربانی کا بکرا شوخ نے دل ہمارا دیکھتے ہی دیکھتے بکری ہوا

 مزید پڑھیں

آپ کی آنکھ اگر آج گلابی ہوگی

آپ کی آنکھ اگر آج گلابی ہوگی میری سرکار بڑی سخت خرابی ہوگی محتسب نے ہی پڑھا ہوگا مقالہ پہلے مری تقریر بہ ہر حال جوابی ہوگی آنکھ اٹھانے سے بھی پہلے ہی وہ ہوں گے غائب کیا خبر تھی کہ انہیں اتنی شتابی ہوگی ہر محبت کو سمجھتا ہے وہ ناول کا ورق اس […]

 مزید پڑھیں

دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے

دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے اس پوری کائنات میں کتنا سراب ہے روزانہ اک فقیر لگاتا ہے یہ صدا دنیا سراب ہے ارے دنیا سراب ہے موسیٰ نے ایک خواب حقیقت بنا دیا ویسے تو گہرے پانی میں رستہ سراب ہے پوری طرح سے ہاتھ میں آیا نہیں کبھی وہ حسن بے […]

 مزید پڑھیں

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے نظارے کی ہوس ہو تو لیلیٰ بھی چھوڑ دے واعظ کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبیٰ بھی چھوڑ دے تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی رستہ بھی ڈھونڈ خضر کا سودا بھی چھوڑ دے مانند خامہ […]

 مزید پڑھیں
1 2 3 11
Copyright 2020 | Anzik Writers