اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں

تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں

 مزید پڑھیں

تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں

تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں مرا تن مور بن کر ناچتا ہے

 مزید پڑھیں

مہران، مجھے دو

مہران، مجھے دو آواز کا اک پنکھ مہران، مجھے دو ٹوٹے ہوئے رشتے پرکھوں کے نوشتے مہران، مجھے دو زرخیز کنارا یہ ہاتھ تمہارا گرم اور سنہرا مہران، مجھے دو امید اور پانی

 مزید پڑھیں

چلو باد بہاری جا رہی ہے

چلو باد بہاری جا رہی ہے پیا جی کی سواری جا رہی ہے شمال جاودان سبز جاں سے تمنا کی عماری جا رہی ہے فغاں اے دشمن دار دل و جاں مری حالت سدھاری جا رہی ہے جو ان روزوں مرا غم ہے وہ یہ ہے کہ غم سے بردباری جا رہی ہے ہے سینے […]

 مزید پڑھیں

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے

تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے تیرے ساتھ تری یاد آئی کیا تو سچ مچ آئی ہے شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس جب […]

 مزید پڑھیں

بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا

بس اک شعاع نور سے سایہ سمٹ گیا وہ پاس آ رہا تھا کہ میں دور ہٹ گیا پھر درمیان عقل و جنوں جنگ چھڑ گئی پھر مجمع خواص گروہوں میں بٹ گیا کیا اب بھی تیری خاطر نازک پہ بار ہوں پتھر نہیں کہ میں ترے رستے سے ہٹ گیا یا اتنا سخت جان […]

 مزید پڑھیں

توبہ توبہ شیخ جی توبہ کا پھر کس کو خیال

توبہ توبہ شیخ جی توبہ کا پھر کس کو خیال جب وہ خود کہہ دے کہ پی تھوڑی سی پی میرے لیے

 مزید پڑھیں

لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا

لباس یار کو میں پارہ پارہ کیا کرتا قبائے گل سے اسے استعارہ کیا کرتا بہار گل میں ہیں دریا کے جوش کی لہریں بھلا میں کشتئ مے سے کنارہ کیا کرتا نقاب الٹ کے جو منہ عاشقوں کو دکھلاتے تمہیں کہو کہ تمہارا نظارہ کیا کرتا سنا جو حال دل زار یار نے تو […]

 مزید پڑھیں

کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے

کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے مستوں کو جوش صوفیوں کو حال آ چکے ہستی کو مثل نقش کف پا مٹا چکے عاشق نقاب شاہد مقصود اٹھا چکے کعبے سے دیر دیر سے کعبے کو جا چکے کیا کیا نہ اس دوراہے میں ہم پھیر کھا چکے گستاخ ہاتھ طوق کمر یار […]

 مزید پڑھیں

ہے خرد مندی یہی باہوش دیوانہ رہے

ہے خرد مندی یہی باہوش دیوانہ رہے ہے وہی اپنا کہ جو اپنے سے بیگانہ رہے کفر سے یہ التجائیں کر رہا ہوں بار بار جاؤں تو کعبہ مگر رخ سوئے مے خانہ رہے شمع سوزاں کچھ خبر بھی ہے تجھے او مست غم حسن محفل ہے جبھی جب تک کہ پروانہ رہے زخم دل […]

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers