دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن اس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا

دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن اس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا ترا علاج شفا گاہ عصر نو میں نہیں خرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا حصار ضبط ہے ابر رواں کی پرچھائیں ملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا نظر کا فرد عمل سے ہے […]

 مزید پڑھیں

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا یہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی کسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا یہ طلوع روز ملال ہے سو گلہ بھی کس سے کریں گے […]

 مزید پڑھیں
1 3 4 5
Copyright 2020 | Anzik Writers