وہ نہتا نہیں اکیلا ہے

وہ نہتا نہیں اکیلا ہے معرکہ اب برابری کا ہے اپنی آنکھیں بچا کے رکھنا تم اس گلی روشنی زیادہ ہے اتنی راس آ گئی ہے تنہائی خود سے ملنا بھی اب اکھرتا ہے آج کے دن جدا ہوا تھا وہ آج کا دن پہاڑ جیسا ہے خود کو کب تک سمیٹنا ہوگا اس نے […]

 مزید پڑھیں

کئی سمتوں میں رستہ بٹ رہا ہے

کئی سمتوں میں رستہ بٹ رہا ہے مسافر سوچ میں ڈوبا ہوا ہے یہ ممکن ہے کہ اس سے ہار جاؤں مری ہی طرح سے وہ سوچتا ہے نظر انداز کیوں کرتے ہو اس کو بدن بھی عشق میں اک مرحلہ ہے جدائی لفظ سے بھی کانپتے ہیں تعلق اتنا گہرا ہو گیا ہے

 مزید پڑھیں
Copyright 2020 | Anzik Writers